خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 248
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۸ جلد دوم کہ باوجود اس کے کہ میں اندھا تھا آپ کی موجودگی میں مجھے اپنا اندھا پن بُرا معلوم نہیں ہوتا تھا ، بے شک میں نے اپنی جسمانی آنکھیں کھو دی تھیں مگر میں خوش تھا ، میں شاداں تھا ، میں فرحاں تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری روحانی آنکھیں موجود ہیں ، مجھے وہ پتیلی حاصل ہے جس کے ساتھ میں اپنے خدا کو دیکھ سکتا ہوں۔اگر میری جسمانی آنکھیں نہیں ہیں ، اگر میں لوٹے اور گلاس کو نہیں دیکھ سکتا تو کیا ہوا مجھے وہ پتیلی تو ملی ہوئی ہے جس سے میں اپنے پیدا کرنے والے خدا کو دیکھ سکتا ہوں۔بھلا لوٹے اور گلاس اور رنگ کو دیکھنے میں کیا مزا ہے۔مزا تو یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کو دیکھ سکے لیکن آج جب وہ پہلی مجھ سے لے لی گئی ہے ، جب وہ عینک مجھ سے چھین لی گئی ہے تو فَعَمِی عَلَيَّ النَّاظِرُ اے لوگو! تم مجھے پہلے اندھا کہا کرتے تھے لیکن حقیقتا میں اندھا آج ہوا ہوں۔مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ میری بیوی بھی ہے، میرے بچے بھی ہیں اور عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں مگر اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ ان میں سے کون مرجاتا ہے جو بھی مرتا ہے مرجائے اُس کی موت میرے لئے اس نقصان کا موجب نہیں ہو سکتی جس نقصان کا موجب میرے لئے یہ موت ہوئی ہے۔فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ - يَا رَسُولَ اللهِ! میں تو اسی دن سے ڈرتا تھا کہ میری یہ بینائی کہیں چھین نہ لی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قسم کی تاریکیوں سے لوگوں کو نکالا ، جس قسم کی تباہیوں سے عربوں کو بچایا ، جس قسم کی ذلت سے اور رسوائی سے نکال کر ان کو ترقی کے بلند مقام تک پہنچایا اس کو دیکھتے ہوئے آپ کے احسانوں کی جو قدرو قیمت صحابہ کے دل میں ہو سکتی تھی وہ بعد میں آنے والے لوگوں کے دلوں میں نہیں ہو سکتی۔مگر پھر بھی دنیا چلی اور چلتی چلی گئی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت صرف زبانوں پر رہ گئی دلوں میں سے مٹ گئی۔خدا تعالیٰ کا نور کتابوں میں تو رہ گیا مگر دماغوں میں سے جاتا رہا۔دنیا خدا کو بھول گئی اور اُس کی لذتیں دنیا سے ہی وابستہ ہو گئیں۔جس طرح کسی درخت کو ایک زمین سے اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگا دیا جاتا ہے اسی طرح خدا کی زمین میں سے لوگوں کی جڑیں اُکھڑ گئیں اور شیطان کی زمین میں جا لگیں ، ان کا ماحول شیطانی ہو گیا اور اُن کی تمام لذت اور اُن کا تمام سرور شیطانی کاموں سے وابستہ ہو گیا۔