خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 240
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۰ جلد دوم قابو میں نہیں رہی تھی۔تو لوگوں نے ہر طرح زور لگا یا کہ ہمارے سلسلہ کو مٹا دیں۔یہاں تک کہ ۱۹۳۴ء میں انگریزی گورنمنٹ بھی ہماری جماعت کی مخالف ہو گئی۔سرایمرسن جو گورنر پنجاب رہ چکے ہیں گورنری سے پہلے میرے بڑے دوست تھے یہاں تک کہ لندن سے انہوں نے مجھے چٹھی لکھی کہ میں اب گورنر بن کر آ رہا ہوں اور امید کرتے ہیں کہ آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے مگر یہاں آتے ہی ہماری جماعت کے شدید مخالف ہو گئے یہاں تک کہ سر فضل حسین صاحب نے ایک ملاقات کے دوران میں مجھ سے کہا کہ نہ معلوم سرا یمرسن کو کیا ہو گیا ہے وہ تو آپ کے سلسلہ کو بہت کچھ بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں۔پھر انہوں نے کریمنل لا ء ایمنڈمنٹ (CRIMINAL LAW AMENDMENT) ایکٹ مجھ پر لگانا چاہا اور قادیان میں احرار کا جلسہ کرایا جس میں ہمارے سلسلہ کی شدید ہتک کی گئی۔غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت ہوئی اور ہر طبقہ نے مخالفت کی۔افغانستان میں میرے زمانہ میں جماعت احمدیہ کے چار آدمی یکے بعد دیگرے شہید کئے گئے حالانکہ افغانستان کے وزیر خارجہ نے خود ہمیں چٹھی لکھی تھی کہ افغانستان میں آپ کو تبلیغ کی اجازت ہے بے شک اپنے مبلغ بھجوائیں۔مگر جب ہم نے اپنے مبلغ بھجوائے تو حکومت نے اُن کو سنگسار کر دیا۔غرض جتنا زور دُنیا لگا سکتی تھی اُس نے لگا کر دیکھ لیا مگر باوجود اس کے خدا نے ہمیں بڑھایا اور ایسی ترقی دی جو ہمارے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھی۔جب میں خلیفہ ہوا اُس وقت ہمارے خزانہ میں صرف چودہ آنے کے پیسے تھے اور ۱۸ ہزار کا قرض تھا یہاں تک کہ میں نے اپنے زمانہ خلافت میں جو پہلا اشتہار لکھا اور جس کا عنوان تھا۔”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اُس کو چھپوانے کے لئے بھی میرے پاس کوئی روپیہ نہ تھا۔اُس وقت ہمارے نانا جان کے پاس کچھ چندہ تھا جو اُنہوں نے مسجد کے لئے لوگوں سے جمع کیا تھا اُنہوں نے اُس چندہ میں سے دوسو روپیہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لئے دیا اور کہا کہ جب خزانہ میں روپیہ آنا شروع ہو جائے گا تو یہ دوسو رو پیدا دا ہو جائے گا۔غرض وہ روپیہ اُن سے قرض لے کر یہ اشتہار شائع کیا گیا۔مگر اُس وقت جب جماعت کے سرکردہ لوگ میرے مخالف تھے، جب جماعت کے لیڈر میرے مخالف تھے ، جب خزانہ خالی