خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 239
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۹ جلد دوم وہاں احرار کی طرف سے چوہدری افضل حق صاحب شامل ہوئے اور انہوں نے بڑے غصہ سے کہا کہ میں ان سے ہرگز صلح نہیں کر سکتا کیونکہ میں جب الیکشن کے لئے کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے میری دو دفعہ مخالفت کی تھی۔میں نے اُن سے کہا کہ مخالفت کرنا ہر شخص کا حق ہے مگر یہ درست نہیں کہ میں نے آپ کی دو دفعہ مخالفت کی ہے۔ایک دفعہ مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔سر سکندر حیات خاں بھی ان سے کہنے لگے کہ آپ بھولتے ہیں آپ سرسکا نے خود مجھے کہا تھا کہ امام جماعت احمدیہ سے چونکہ میرے دوستانہ تعلقات ہیں اس لئے میں آپ کے متعلق ان کے پاس سفارش کر دوں اور میں نے آپ کے کہنے پر سفارش کی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔پس یہ درست نہیں کہ انہوں نے دودفعہ مخالفت کی ہے ایک دفعہ انہوں نے مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔اس پر چو ہدری افضل حق صاحب کہنے لگے خواہ کچھ ہو میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو چل کر رکھ دوں گا۔اسی طرح وہ غصہ میں اور بھی بہت کچھ کہتے چلے گئے میں مسکراتا رہا اور خاموش رہا۔جب وہ اپنا غصہ نکال چکے تو میں نے کہا چوہدری صاحب ! ہما را دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اگر ہمارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے تو آپ کی کسی کوشش کی ضرورت نہیں خدا خود ہمارے سلسلہ کو کچل دے گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ سلسلہ ہے تو پھر آپ کی کیا حیثیت ہے دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی ہمارے سلسلہ کو کچلنا چاہیں تو وہ خود کچلے جائیں گے مگر ہمارے سلسلہ کو کچل نہیں سکتے۔اُس وقت مجلس میں نواب مظفر خان صاحب موجود تھے ، شیخ محمد صادق صاحب موجود تھے، نواب احمد یار خاں صاحب دولتانہ موجود تھے ، جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ محمد صادق صاحب چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے گھر تک گئے اور انہیں کہا کہ چوہدری صاحب! آپ نے اچھا نہیں کیا۔گھر پر بلا کر امام جماعت احمدیہ کی آج شدید ہتک کی گئی ہے چنانچہ بعد میں واپس آکر اُنہوں نے خود ہی ذکر کیا کہ میں چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے دروازہ تک گیا تھا اور اُن سے کہا تھا کہ آپ نے آج جو کچھ کیا ہے اچھا نہیں کیا اور چوہدری افضل حق صاحب کہتے تھے کہ اب میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یہ الفاظ نہیں کہنے چاہئیں تھے اصل بات یہ ہے غصہ میں میری زبان