خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 229
خلافة على منهاج النبوة ۲۲۹ جلد دوم خلافت نبوت کو زندہ رکھتی ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مورالہ ۲۸ دسمبر ۱۹۴۰ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر سیر روحانی کے عنوان سے کی جانے والی تقاریر کے تسلسل میں یہ تقریر فرمائی۔اس تقریر میں آپ نے خصوصیت سے مساجد اور قلعوں کی بابت تفصیل سے روشنی ڈالی۔مساجد کے تعلق میں مساجد کی دس خصوصیات بیان فرمائیں اور صحابہ اور مساجد میں مماثلت بیان کرتے ہوئے امامت کے قیام کا ذکر کیا اور فرمایا :۔در حقیقت جس طرح مسجد، خانہ کعبہ کی یاد کو تازہ رکھتی ہے اس طرح امام نبوت کی یاد تازہ رکھتا ہے اب دیکھ لو اس امر کو بھی مسلمانوں نے تازہ کیا اور مقام ابراہیم کو مصلی بنایا یعنی امامت کا وجود ظاہر کیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہ نے خلافت کو قائم کیا اور امامت کو زندہ رکھا۔پہلے حضرت ابو بکر ، پھر حضرت عمرؓ پھر حضرت عثمان ، پھر حضرت علی مقام ابراہیم پر کھڑے رہے، گویا بالکل مسجد کا نمونہ تھے۔جس طرح مسجد میں لوگ ایک شخص کو امام بنا لیتے ہیں اس طرح صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہوتے ہی ایک شخص کو اپنا امام بنالیا۔اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔گجرات کے ایک دوست نے سنایا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی خبر پھیلی تو ایک مولوی کہنے لگا کہ جماعت احمد یہ انگریزی خوانوں کی جماعت ہے اسے دین کا کچھ پتہ نہیں اب فیصلہ ہو جائے گا کہ مرزا صاحب نبی تھے یا نہیں؟ کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔اور تم میں چونکہ انگریزی خوانوں کا غلبہ ہے وہ ضرور انجمن کے ہاتھ میں کام دیدیں گے اور اس طرح ثابت ہو جائے گا کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے۔دوسرے ہی دن یہاں سے تار چلا گیا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ہو گئے ہیں یہ خبر جماعت کے دوستوں نے اُس مولوی کو بھی جا کر سنا