خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 215
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۵ جلد دوم گئے کہ حد ہو گئی۔پھر ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور ان کی انجمن کے دوسرے ممبروں میں احمد یہ بلڈنکس میں عَلَى الْإِعْلانُ لڑائی ہوئی۔یہاں تک کہ بعضوں نے کہ دیا ہم عورتوں کو پکڑ کر یہاں سے نکال دیں گے۔کل بھی انہی میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا ہوا تھا اور کہتا تھا کہ میری جائیداد فلاں شخص لوٹ کر کھا گیا ہے آپ میری کہیں سفارش کرا دیں۔غرض جس طرح الہام میں بتایا گیا تھا اسی طرح واقعہ ہوا اور ان کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں وہ پچیس سالہ نوجوان جسے یہ تحقیر سے بچہ کہا کرتے تھے اسے خدا تعالیٰ نے ایسی طاقت دی کہ جب بھی کوئی فتنہ اُٹھتا ہے اُس وقت وہ اسے اس طرح کچل کر رکھ دیتا ہے جس طرح لکھی اور مچھر کو مسل دیا جاتا ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہوتی کہ و مقابلہ میں دیر تک ٹھہر سکے۔09, اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پانچویں علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلفاء کی یہ بتائی ہے کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شيئا وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔اس علامت کے مطابق بھی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی سے نہیں ڈرا۔احتیاط میرے اندرحد درجہ کی ہے اور میں اسے عیب نہیں بلکہ خوبی سمجھتا ہوں لیکن جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ فلاں بات یوں ہے تو پھر میں نے مشکلات کی کبھی پرواہ نہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ باوجو د شدید ترین خطرات کے خدا تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے مداہنت سے بچایا ہے اور کبھی بھی میں جھوٹی صلح کی طرف مائل نہیں ہوا۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا مستریوں کے فتنہ کے بارہ میں ایک رؤیا کہ میں بہشتی مقبرہ کی طرف سے آ رہا ہوں اور میرے ساتھ میر محمد اسحاق صاحب ہیں راستہ میں ایک بڑا سمندر ہے جس میں ایک کشتی بھی موجود ہے۔میں اور میر محمد اسحاق صاحب دونوں اس کشتی میں بیٹھ گئے اور چل پڑے۔جب وہ کشتی اس مقام پر پہنچی جہاں مستریوں کا مکان ہوا کرتا تھا تو وہ بھنور میں پھنس گئی اور چکر کھانے لگی۔اتنے میں اس سمندر میں سے ایک سرنمودار ہوا اور اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی بھنور سے نکل جائے اور