خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 212
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۲ جلد دوم بھی باوجود میری مخالفت کے نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قائل ہیں اور اگر وہ دیانتداری اور سچائی سے کام لیں تو اس بات کا اعتراف کر سکتے ہیں کہ اس مسئلہ پر جماعت کو ثبات میری وجہ سے ہی حاصل ہوا اور میں نے ہی اس مسئلہ کو حل کیا۔پھر کیا یہ مسئلہ خدا نے اسی سے حل کرانا تھا جو بقول مصری صاحب معزول ہونے کے قابل تھا ؟ اسی طرح جماعت پر بڑے بڑے خطرات کے اوقات آئے مگر خدا تعالیٰ نے ہر خطرہ کی حالت میں میری مدد کی اور میری وجہ سے اس خوف کو امن سے بدل دیا گیا۔احرار کا جن دنوں زور تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اب جماعت تباہ ہو جائے گی مگر میں نے کہا میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی دیکھتا ہوں اور اس کے تھوڑے دنوں بعد ہی احرار کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی اور وہ دنیا میں ذلیل اور رسوا ہو گئے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک سکھ نے ایک رسالہ لکھا ان جس میں وہ میرا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ تم انہیں خواہ کتنا ہی جھوٹا کہو ، ایک بات ایسی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور وہ یہ کہ جن دنوں احرار اپنے زور پر تھے اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جماعت احمدیہ کو مٹا کر رکھ دیں گے اُن دنوں امام جماعت احمدیہ نے کہا کہ میں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوں اور سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی یہ بات بڑی شان سے پوری ہوئی۔پہلے احرار جس تحریک کو بھی اپنے ہاتھ میں لیتے تھے کامیاب ہوتے تھے مگر اب ان کی یہ حالت ہے کہ وہ جس تحریک کو بھی اُٹھاتے ہیں اس میں ناکام ہوتے ہیں۔اسی طرح ارتداد ملکا نا کا فتنہ لے لو، رنگیلا رسول کے وقت کی ایجی ٹیشن کو لے لو یا ان بہت سی سیاسی اُلجھنوں کو لے لو جو اس دوران میں پیدا ہوئیں تمہیں نظر آئے گا کہ ہر مصیبت کے وقت خدا نے میری مدد کی ، ہر مشکل کے وقت اس نے میرا ساتھ دیا اور ہر خوف کو اس نے میرے لئے امن سے بدل دیا۔میں کبھی بھی نہیں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایسا عظیم الشان کام لے گا مگر میں اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ خدا نے میرے وہم اور گمان سے بڑھ کر مجھ پر احسانات کئے۔جب میری خلافت کا آغاز ہوا تو اُس وقت میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں کوئی دین کی خدمت کر سکوں گا۔ظاہری حالات میرے خلاف تھے ، کام کی قابلیت میرے اندر نہیں تھی ، پھر میں نہ عالم تھا نہ