خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 205

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۵ جلد دوم بلکہ یہ مقام محض اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہوا ہے اگر وہ نہ ہو تو پھر یہ عصمت بھی نہ رہے۔اسی طرح رسول کریم علیہ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی کلمات نکلوائے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے قُلْ اِن كَانَ لِلرِّحْمَنِ وَلَد فَأَنَا أَوَّلُ الْعَيدِينَ ١٩ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا کا بیٹا ہو تو میں سے پہلے اُس کی پرستش اور عبادت کرنے کیلئے تیار ہوں۔اب اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے بیٹے کا امکان موجود ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ خدا کا بیٹا تو یقیناً کوئی نہیں لیکن اگر ہوتا تو میرے جیسا مطیع و فرمانبردار بندہ اُس کی ضرور عبادت کرتا۔اسی طرح حضرت ابو بکر سے گوگفر بواح کا صدور بالکل ناممکن تھا مگر آپ نے صداقت از لی کی اہمیت لوگوں کو ذہن نشین کرانے کیلئے فرما دیا کہ اگر میں بھی اس کے مقابلہ میں آجاؤں تو میری پرواہ نہ کرنا۔ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ السلام کا بھی ایک واقعہ ہے۔آپ کے زمانہ میں ایک شخص میاں نظام الدین نامی تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو تمام ہندوستان میں ایک شور مچ گیا ، اُن دنوں حضرت خلیفہ اول جموں سے چند دنوں کی رخصت لیکر لاہور آئے ہوئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی وہیں جا پہنچے اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا اور کہا کہ صرف حدیثوں سے اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہئے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ حدیث حاکم نہیں بلکہ قرآن حاکم ہے۔پس ہمیں اس معاملہ کا قرآن کریم کی آیات سے فیصلہ کرنا چاہئے۔اس پر کئی دن بحث ہوتی رہی اور ایک دوسرے کی طرف سے اشتہارات بھی نکلتے رہے۔میاں نظام الدین چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس جھگڑے کو نپٹا نا چاہئے۔انہوں نے اپنے دل میں سمجھا کہ مرزا صاحب نیک آدمی ہیں وہ قرآن کریم کے خلاف تو کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ضرور انہوں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی جسے مولوی محمد حسین