خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 199
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۹ جلد دوم کی اور دو کی بالواسطہ۔پہاڑ پر رکھنے کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کی اعلیٰ تربیت کر کیونکہ وہ بہت بڑے درجہ کے ہوں گے گویا پہاڑ پر رکھنے کے معنی ان کے رفیع الدرجات ہونے کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ بلندیوں کی چوٹیوں تک جا پہنچیں گے۔غرض اس طرح احیائے قومی کا وہ نقشہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریب زمانہ میں ظاہر ہونا تھا انہیں بتا دیا گیا۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھی مثیل ہیں جیسا کہ درود پڑھنے والے مسلمان جانتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سکھائی ہے کہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اللَّهُمَّ بَارِک عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہیں تو یقینا کسی خاص خصوصیت کی طرف ہی اس درود میں اشارہ ہو سکتا ہے اور وہ خصوصیت ان کی اولاد میں امامت و نبوت کی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوةُ والكِتب واتينَهُ أَجْرَةَ في الدُّنْيَاء وَاِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ ا یعنی ہم نے اس کی ذریت کے ساتھ نبوت اور کتاب کو مخصوص کر دیا اور ہم نے اس کو اس دنیا میں بھی اجر بخشا اور آخرت میں بھی وہ نیک بندوں میں شامل کیا جائے گا۔پس وہ فضیلت جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کوملی وہ نبوت ہی تھی جس کے بعد متواتر ان کی اولا دکو نبوت خلافت حاصل ہوئی جس نے ان کے گھر کو شرف سے بھر دیا۔چنانچہ ایک دفعہ کسی نے رسول کریم سے پوچھا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! سب سے زیادہ معزز کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا جو ب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔اس نے کہا یا رَسُولَ اللهِ ! میرا یہ سوال نہیں۔آپ کو نے فرمایا تو پھر یوسف بڑا معزز ہے جو خود بھی نبی تھا اور نبی کا بیٹا بھی تھا۔پھر اُس کا دادا بھی نبی تھا اور اُس کا پڑدادا ابراہیم بھی نبی تھا۔پس جب ہم كَمَا صَلَّيْتَ يَا كَمَا بَارَكْتَ کہتے ہیں تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی فضیلت دے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھی۔ذاتی طور پر بھی اور اولاد کی طرف سے بھی۔یعنی