خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 195
خلافة على منهاج النبوة ۱۹۵ جلد دوم معزول کر دے۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو امتِ اسلامیہ معزول نہیں کر سکتی۔ایسے شخص کو تو شیطان کے چیلے ہی معزول کریں گے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وعدہ کا لفظ ہے اور وعدہ احسان پر دلالت کرتا ہے۔پس اس اعتراض کے معنی یہ ہوں گے کہ چونکہ انعام کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے اُمت کے ہاتھ میں رکھا ہے اسے کیوں حق نہیں کہ وہ اس انعام کو رڈ کر دے۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ استنباط بدترین استنباط ہے۔جو انعام منہ مانگے ملے اس کا رڈ کرنا تو انسان کو اور بھی مجرم بنا دیتا ہے اور اس پر شدید حجت قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرمائے گا کہ اے لوگو! میں نے تمہاری مرضی پر چھوڑا اور کہا کہ میرے انعام کو کس صورت میں لینا چاہتے ہو؟ تم نے کہا ہم اس انعام کو فلاں شخص کی صورت میں لینا چاہتے ہیں اور میں نے اپنے فضل اس شخص کے ساتھ وابستہ کر دیئے۔جب میں نے تمہاری بات مان لی تو اب تم کہتے ہو کہ ہم اس انعام پر راضی نہیں۔اب اس نعمت کے اوپر میں اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ای کی طرف اشارہ کرنے کیلئے فرمایا کہ مَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُوْنَ یعنی انتخاب کے وقت تو ہم نے اُمت کو اختیار دیا ہے مگر چونکہ اس انتخاب میں ہم اُمت کی را ہبری کرتے ہیں اور چونکہ ہم اس شخص کو اپنا بنا لیتے ہیں اس کے بعد امت کا اختیار نہیں ہوتا اور جو شخص پھر بھی اختیار چلانا چاہے تو یا درکھے وہ خلیفہ کا مقابلہ نہیں کرتا بلکہ ہمارے انعام کی بے قدری کرتا ہے۔پس من كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ اگر انتخاب کے وقت وہ امنوا وعملوا الصلحت میں شامل تھا تو اب اس اقدام کی وجہ سے ہماری درگاہ میں اس کا نام و عملوا الصلحت کی فہرست سے کاٹ کر فاسقوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔ایک لطیف نکتہ اب ایک لطیف نکتہ بھی سن لو۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا عجیب بات بیان کی ہے۔خلافت کے انعام کا وارث اس قوم کو بتایا ہے جو (۱) ایمان رکھتی ہو یعنی اس کے ارادے نیک ہوں۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ " کہ مومن کے عمل محدود ہوتے ہیں مگر اس کے ارادے بہت وسیع ہوتے ہیں۔اور وہ کہتا ہے