خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 194

خلافة على منهاج النبوة ۱۹۴ جلد دوم ” خلافت کیسری کی دُکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔‘‘۷۵ پس اگر پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت خلیفہ تھے تو ان کے فیصلے اسی کی تائید میں ہیں کہ ان کے بعد بھی خلافت رہے گی اور اسی رنگ میں ہوگی جس رنگ میں ان کی اپنی خلافت تھی اور ان کے فیصلے اس بارہ میں حجت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارتضى لَهُمْ - تیسرا جواب یہ ہے کہ جب موجبات موجود ہوں تو پھر ان کا طبعی نتیجہ کیوں نہ ہوگا یا تو یہ مانا جائے گا کہ ضرورت خلافت بعد میں نہ رہی اور اُمت بھی مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی نہ رہی اور یا پھر خلافت کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔کیا خلیفہ کا عزل جائز ہے؟ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب خلیفہ انتخاب سے ہوتا ہے تو پھر امت کیلئے اس کا عزل بھی جائز ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ گو خلیفہ کا تقر ر ا نتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن آیت کی نص صریح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بنا تا ہے اور اس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے لیکن مقرر اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لیسْتَخْلِفَتَهُمْ کہ وہ خود ان کو خلیفہ بنائے گا۔پس گو خلفاء کا انتخاب مومنوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا الہام لوگوں کے دلوں کو اصل حقدار کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے خلفاء میں میں فلاں فلاں خاصیتیں پیدا کر دیتا ہوں اور یہ خلفاء ایک انعام الہی ہوتے ہیں۔پس اس صورت میں اس اعتراض کی تفصیل یہ ہوئی کہ کیا اُمت کو حق نہیں کہ وہ اس شخص کو جو کامل موحد ہے جس کے دین کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے خدا نے تمام خطرات کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ شرک کو مٹانا چاہتا ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کو محفوظ کرنا چاہتا ہے