خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 178

خلافة على منهاج النبوة انتخاب نہیں کہلا سکتا۔۱۷۸ جلد دوم آیت استخلاف کے متعلق حضرت مسیح تیسرا جواب احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تشریح والسلام نے اس آیت کے معنی کرتے ہوئے ستر الخلافہ میں تحریر فرمایا ہے کہ اِنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَ فِي هَذِهِ الْآيَاتِ لِلْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَتِ أَنَّهُ سَيَسْتَخْلِفَنَّ بَعْضَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُمْ فَضْلاً وَرَحْمَةً ١٣ اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے بعض کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ خلیفہ بنائے گا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ میں ساری قوم مراد نہیں بلکہ بعض افرادِ اُمت مراد ہیں تو کم از کم کوئی احمدی یہ معنی نہیں کر سکتا کہ یہاں ساری قوم مراد ہے۔چو تھا جواب بھی احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح خلافت محمدیہ کا استنباط موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا اس آیت سے اپنی خلافت محمدیہ کا استنباط کیا ہے اور اس وعدہ میں خلافتِ نبوت بھی شامل کی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ خلافتِ نبوت سے ساری قوم مراد نہیں ہو سکتی بلکہ بعض افراد ہی ہو سکتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں بادشاہت کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ فرمایا ہے کہ جَعَلَكُمْ قُلُوعًا اس نے تم کو بادشاہ بنایا مگر جب نبوت کا ذکر کیا تو جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ فرمایا۔یعنی اس نے تم میں انبیاء مبعوث فرمائے اور اس فرق کی وجہ یہی ہے کہ یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے فلاں قوم کو بادشاہ بنایا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں قوم کو نبی بنایا۔پس اگر نبوت کا وعدہ ساری قوم کو مخاطب کر نے کے باوجود بعض اشخاص کے ذریعہ پورا ہوسکتا ہے تو خلافت کا وعدہ بھی ساری قوم کو مخاطب کرنے کے باوجود بعض اشخاص کے ذریعہ پورا ہوسکتا ہے۔اور جس طرح وعدے کے ایک حصے کا ایفاء ہوا اسی طرح وعدہ کے دوسرے حصے کا ایفا ممکن ہے۔