خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 179

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت پانچواں جواب اس کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فعل نے اس پر شہادت دے دی ہے کہ اس کی اس آیت سے کیا مراد ہے۔خدا نے یہ کہا تھا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهيم کہ وہ ایمان اور عملِ صالح : قائم رہنے والوں کو زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی اس سے یہ مراد تھی کہ ہم جمہوریت قائم کر دیں گے تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جمہوریت قائم ہوئی یا نہیں۔اور اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشا تھا کہ بعض افرادِ اُمت کو خلافت ملے گی اور ان کی وجہ سے تمام قوم برکات خلافت کی مستحق قرار پا جائے گی تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا اس رنگ میں مسلمانوں میں خلافت قائم ہوئی یا نہیں۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس طرح اس نے یہ وعدہ پورا کیا وہی اس آیت سے مراد ہو سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ عمدگی کے ساتھ اور کوئی پورا نہیں کر سکتا۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے حالات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض افراد امت کو ہی خلافت ملی سب کو خلافت نہیں ملی۔پس یا تو یہ مانو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ الّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الشلحت کے مصداق نہیں رہے تھے اور جس طرح شیعہ کہتے ہیں کہ اُمت میں صرف اڑھائی مومن تھے اسی طرح یہ تسلیم کر لو کہ نَعُوذُ بِاللہ سب منافق ہی منافق رہ گئے تھے ، اس لئے خلافت قومی کا وعدہ ان سے پورا نہ ہوا اور اگر وہ ایمان اور عمل صالح پر قائم تھے تو پھر اگر ان سے ہی صحیح رنگ میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو اور کس سے ہو سکتا ہے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں جس رنگ میں خلافت قائم کی وہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ فعلی شہادت بتا رہی ہے کہ قوم سے اس وعدہ کو بعض افراد کے ذریعہ سے ہی پورا کیا جائے گا۔