خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 176
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم ہم اسے انتخابی بادشاہ کہہ سکتے تھے مگر اب تو نہ ہم اسے خلیفہ کہہ سکتے ہیں اور نہ انتخابی بادشاہ۔ہم معاویہ کو گنہگار نہیں کہتے انہوں نے اُس وقت کے حالات سے مجبور ہو کر ایسا کیا مگر یزید کو بھی بلکہ خود معاویہ کو بھی خلیفہ نہیں کہہ سکتے ، ایک بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔یزید کا معاملہ تو جب معاویہ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اُس وقت تمام صحابہ اسے ایک تمسخر سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ معاویہؓ نے جب لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اے مسلمانو ! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤساء میں سے ہے۔پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہوسکتا ہے اور میرے بعد میرے بیٹے سے زیادہ کون مستحق ہے تو اُس وقت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی ایک کو نہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں جب میں نے معاویہ کو یہ بات کہتے سنا تو وہ چادر جو میں نے اپنے پاؤں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اُس کے بند کھولے اور میں نے ارادہ کیا کہ کھڑے ہو کر معاویہؓ سے یہ کہوں کہ اے معاویہ ! اس مقام کا تجھ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کا باپ تیرے باپ کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر لڑتا رہا اور جو خود اسلامی لشکروں میں تیرے اور تیرے باپ کے مقابلہ میں جنگوں میں شامل رہا ہے۔مگر پھر مجھے خیال آیا کہ یہ دنیا کی چیزیں میں نے کیا کرنی ہیں اس سے فتنہ اُٹھے گا اور مسلمانوں کی طاقت اور زیادہ کمزور ہو جائے گی۔چنانچہ میں پھر بیٹھ گیا اور میں نے معاویہ کے خلاف کوئی آواز نہ اُٹھائی۔تو صحابہ معاویہ کی اس حرکت کو بالکل لغو سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں تھی۔یزید کے ایک بیٹے کی پھر یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوں کی رضا تو الگ رہی خود اس کا اپنا بیٹا متفق نہ تھا بلکہ اس نے تخت حکومت سے دستبرداری تخت نشین ہوتے ہی بادشاہت سے انکار کر کے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔یہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے مگر میں نہیں جانتا مسلمان مؤرخین نے کیوں اس واقعہ کو زیادہ استعمال نہیں کیا۔حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ اس واقعہ کو بار بار دُہراتے کیونکہ یہ یزید کے مظالم کا ایک عبرتناک ثبوت ہے۔