خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 175
خلافة على منهاج النبوة ۱۷۵ جلد دوم لئے یزید کو بھی ہم ایک دُنیوی بادشاہ مان سکتے ہیں مگر خلیفہ تو نہ معاویہ تھے اور نہ یزید۔پھر معاویہ نے جب یزید کے متعلق لوگوں سے مشورہ لیا تو اُس وقت وہ لوگوں کے حاکم تھے۔ایسی صورت میں جو انہوں نے مشورہ لیا وہ کوئی مشورہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ مشورہ میں آزادی ضروری ہے لیکن جہاں آزادی نہ ہو اور جہاں بادشاہ اپنی رعایا سے کہہ رہا ہو کہ میرے بیٹے کی بیعت کر لو وہاں رعایا مشورہ دینے میں کہاں آزاد ہو سکتی ہے اور کب وہ اس کی بات کا انکار کر سکتی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے افغانستان کا بادشاہ اپنی رعایا سے کہہ دے کہ اے لوگو! مجھے خلیفہ مان لو اور جب وہ مان لیں تو کہہ دے لوگوں نے مجھے حکومت کے لئے منتخب کیا ہے۔یہ ہرگز انتخاب نہیں کہلا سکتا اور نہ اس قسم کا مشورہ مشورہ کہلا سکتا ہے۔مشورہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب لوگ آزاد ہوں اور ہر ایک کو اجازت ہو کہ وہ مختلی بالطبع ہو کر جس کا نام چاہے پیش کرے۔پس اول تو معاویہ خود خلیفہ نہ تھے بلکہ بادشاہ تھے۔دوسرے انہوں نے بادشاہ ہونے کی حالت میں اپنے بیٹے کی خلافت کا لوگوں کے سامنے معاملہ پیش کیا اور یہ ہرگز کوئی مشورہ یا انتخاب نہیں کہلا سکتا۔ہے۔باپ کا اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے تجویز پھر باپ کا بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ حقیقی کرنا سنتِ صحابہ کے خلاف ہے انتخاب نہیں تھا کیونکہ باپ کا اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا سنت صحابہ کے خلاف ہے۔حضرت عمر کی وفات کے قریب آپ کے پاس لوگوں کے کئی وفود گئے اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ آپ کے بعد خلافت کا سے زیادہ اہل آپ کا بیٹا عبداللہ ہے آپ اسے خلیفہ مقرر کر جائیں۔مگر آپ نے فرمایا مسلمانوں کی گردنیں ایک لمبے عرصہ تک ہمارے خاندان کے آگے جھکی رہی ہیں۔اب میں چاہتا ہوں کہ یہ نعمت کسی اور کو ملے۔10 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر حضرت عمر کی وفات کے بعد لوگ آپ کے بیٹے عبد اللہ کو خلافت کیلئے منتخب کرتے تو یہ اور بات ہوتی مگر یہ جائز نہیں تھا کہ حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے خود نامزد کر جاتے۔اسی طرح اگر معاویہؓ اپنی موجودگی میں یزید کا معاملہ لوگوں کے سامنے پیش نہ کرتے اور بعد میں قوم اسے منتخب کرتی تو