خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 174
خلافة على منهاج النبوة ۱۷۴ جلد دوم کر کے اسے دے دو۔پس وہ مومنوں کے ذریعہ سے خلافت کا انتخاب کراتا ہے تا کہ خلافت ورثہ کے طور پر نہ چل پڑے۔اور ہمیشہ اس غرض کے لئے قوم بہترین لوگوں کو منتخب کیا کرے۔پس اللہ تعالیٰ نے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ میں اُمت مسلمہ سے اس لئے وعدہ کیا ہے تا یہ امر ان کے ذہن نشین ہو جائے کہ خلافت کا وعدہ قومی ہے اور قوم کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا خلیفہ بنا دے گا۔حضرت ابوبکر نے حضرت عمرؓ کو نامزد کیوں کیا تھا؟ اگر کہا جائے کہ جب قوم کے انتخاب سے ہی کوئی خلیفہ ہوسکتا ہے تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو نا مزد کیوں کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے یونہی نامزد نہیں کر دیا بلکہ پہلے صحابہ سے آپ کا مشورہ لینا ثابت ہے۔فرق ہے تو صرف اتنا کہ اور خلفاء کو خلیفہ کی وفات کے بعد منتخب کیا گیا اور حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکر کی موجودگی میں ہی منتخب کر لیا گیا۔پھر آپ نے اسی پر بس نہیں کیا کہ چند صحابہؓ سے مشورہ لینے کے بعد آپ نے حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کر دیا ہو بلکہ باوجود سخت نقاہت اور کمزوری کے آپ اپنی بیوی کا سہارا لے کر مسجد میں پہنچے اور لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! میں نے صحابہ سے مشورہ لینے کے بعد اپنے بعد خلافت کے لئے عمر کو پسند کیا ہے کیا تمہیں بھی ان کی خلافت منظور ہے؟ اس پر تمام لوگوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔پس یہ بھی ایک رنگ میں انتخاب ہی تھا۔کیا حضرت معاویہؓ کا یزید کو خلیفہ اگر کہا جائے کہ پھر معاویہ کا یزید کو مقرر کرنا بھی انتخاب کہلائے گا کیونکہ انہوں مقرر کرنا بھی انتخاب کہلا سکتا ہے؟ نے بھی لوگوں کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا تھا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود معاویہ کا انتخاب نہیں ہوا اور جب ان کی اپنی خلافت ہی ثابت نہیں تو ان کے بیٹے کی خلافت کس طرح ثابت ہوسکتی ہے۔ہم یزید کو معاویہ کا جانشین ماننے کیلئے تیار ہیں مگر ہم اسے خلیفہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ خلافت خود معاویہ کی بھی ثابت نہیں پھر ان کے بیٹے کی کس طرح ثابت ہو جائے۔معاویہؓ ایک دُنیوی بادشاہ تھے اس