خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 173

خلافة على منهاج النبوة ۱۷۳ جلد دوم میں پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے اُن کی اکثر ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔اگر خدانخواستہ ہمارے اندر بھی ویسا ہی تفرقہ ہوتا جیسا مسلمانوں کے اندر ہے تو نہ ہماری آواز میں کوئی طاقت ہوتی اور نہ مجموعی رنگ میں افراد جماعت کو وہ فوائد پہنچتے جواب پہنچ رہے ہیں۔افغانستان میں جب ہماری افغانستان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنیکا اثر " جماعت کے بعض آدمی شہید ہوئے تو ہم نے صدائے احتجاج بلند کی اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی مؤثر ہوئی کہ چھ مہینے تک لنڈن کے گلی کوچوں میں اس کا چرچا رہا اور افغانی سفیر کیلئے شرم کے مارے باہر نکلنا مشکل ہو گیا۔جب بھی وہ نکلتا لوگ اُسے طعنے دیتے اور کہتے کہ کیا تمہارے ملک میں یہ آزادی ہے حالانکہ افغانستان میں روزانہ کئی پٹھان مارے جاتے ہیں اور کوئی ان کا ذکر تک نہیں کرتا۔تو جماعتی نظام کی وجہ سے چونکہ افراد جماعت کو بہت کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں اس لئے جب قوم کے بعض افراد کو کوئی ایسا انعام ملتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ انعام اس قوم کو ملا کیونکہ قوم اُن انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو خلافت یا بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں۔غرض چونکہ ملوکیت کے ذریعہ سے ساری قوم کی عزت ہوتی ہے اس وجہ سے جَعَلَكُمْ قُلُوكًا فرمایا۔اور چونکہ خلافت سے سب قوم نے نفع اٹھانا تھا اور اُٹھایا اس لئے خلافت کے بارہ میں بھی یہی کہا کہ تم کو خلیفہ بنایا جائے گا۔خلافت ایک انتخابی چیز ہے جس دوسرا جواب یہ ہے کہ خلافت چونکہ انتخابی امر ہے اور انتخابی امر میں سب قوم کا دخل میں سب قوم کا دخل ہوتا ہے ہوتا ہے اس لئے انتخاب پر زور دینے کیلئے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ کہا گیا کہ چونکہ یہ وعدہ قوم سے ہے اس لئے ورثہ کے طور پر یہ عہدہ نہیں مل سکتا بلکہ وہی خلیفہ ہو گا جس پر قوم جمع ہو۔اس طرح انتخاب کے مسئلہ پر خاص طور پر زور دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہی شخص خلیفہ ہوسکتا ہے جس کی خلافت میں مومنوں کا ہاتھ ہو۔بیشک یہ ایک الہی انعام ہے مگر یہ انعام ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ پہلے اپنے مومن بندوں کو دیتا ہے اور پھر ان کو نصیحت کرتا ہے کہ اپنے میں سے قابل ترین انسان کو منتخب