خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 172

خلافة على منهاج النبوة ۱۷۲ جلد دوم بڑا شور اُٹھا کہ راجہ صاحب کی ہتک ہوئی ہے مگر کسی نے اس انگریز کو پوچھا تک نہیں کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔تو جس قوم کو غلبہ حاصل ہو اس کے غرباء کو بھی ایک رنگ کی عزت حاصل ہو جاتی ہے۔امریکہ میں جب شراب کی بندش ہوئی تو اُس وقت بعض غیر ممالک کے جہاز چوری چوری وہاں شراب پہنچاتے تھے۔ایک دفعہ ایک انگریزی جہاز وہاں شراب لے گیا۔اتفاقاً امریکہ والوں کو علم ہو گیا اور اُن کے جہازوں نے اُس جہاز کا تعاقب کیا مگر اس دوران میں وہ ساحلِ امریکہ سے تین میل دور نکل آیا اگر اُس حد کے اندر جہاز گرفتار ہو جاتا تو اور بات تھی مگر اب چونکہ یہ جہاز امریکہ کی مقررہ حد سے باہر نکل آیا اس لئے بے فکر ہو کر چلنے لگ گیا۔اس پر امریکہ کے جہازوں نے سگنل کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ ٹھہر جاؤ اور اگر نہ ٹھہرے تو تم پر بمباری کی جائے گی اس پر انگریزی جہاز نے اپنا جھنڈا اونچا کر کے اُس پر بجلی کی روشنی ڈال دی۔مطلب یہ تھا کہ پہلے یہ دیکھ لو کہ یہ جہاز کس قوم کا ہے اگر اس کے بعد بھی تم میں بمباری کی ہمت ہوئی تو بیشک کر لینا۔امریکہ والوں نے جب دیکھا کہ اس جہاز پر انگریزی بھنڈا لہرا رہا ہے تو وہ اُسی وقت واپس چلے گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے اس کا مقابلہ کیا تو امریکہ اور انگلستان کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی۔تو کوئی قوم جب غلبہ پالیتی ہے تو بعض باتوں میں اس کے ادنیٰ افراد کو بھی عزت مل جاتی ہے۔یہاں کے کئی ہندو دوستوں نے مجھے سنایا کہ جب وہ باہر جاتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ وہ قادیان سے آئے ہیں تو لوگ اُن کی بڑی خاطر تواضع کرتے ہیں محض اس لئے کہ اُن کا قادیان سے تعلق ہوتا ہے۔عرب سے جب کوئی آدمی ہندوستان میں آئے تو ہمارے ہندوستانیوں کی عرب صاحب، عرب صاحب کہتے زبانیں خشک ہو جاتی ہیں حالانکہ اپنے ملک میں اُسے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔اپنی جماعت کو ہی دیکھ لو۔ہماری جماعت میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت رکھی ہوئی ہے اس لئے بہت سے فوائد قوم کو پہنچ رہے ہیں۔کہیں کسی احمدی کو ذرا بھی تکلیف ہو تو ساری دنیا میں شور مچ جاتا ہے۔اسی طرح اگر لوگوں کو کسی امداد کی ضرورت ہو تو وہ قادیان