خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 168

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۸ جلد دوم کے یہ معنی تو نہیں ہوتے کہ اس قوم کا ہر فرد دولتمند ہے۔انگریزوں کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے دولتمند ہیں حالانکہ ان میں بڑے بڑے غریب بھی ہوتے ہیں۔وہ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور نے ایک دفعہ سنایا کہ لنڈن میں تھے تو ایک دن جس مکان میں وہ رہتے تھے اس کا کوڑا کرکٹ اٹھا کر خادمہ نے جب باہر پھینکا تو ایک انگریز لڑکا دوڑ کر آیا اور اُس نے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں سے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا نکال کر کھا لیا۔اسی طرح برنڈزی ۵۸ میں میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے سروں پر برتن رکھ کر پانی لینے جاتی تھیں اور ان کے بچوں نے جو پتلونیں پہنی ہوئی ہوتی تھیں ان کا کچھ حصہ کسی کپڑے کا ہوتا تھا اور کچھ حصہ کسی کپڑے کا مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگر یز بڑے دولتمند ہیں۔غرض قوم سے وعدہ کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔کئی وعدے قوم سے ہی ہوتے ہیں لیکن پورے وہ افرد کے ذریعہ کئے جاتے ہیں۔اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ علَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَا وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا یعنی موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث کئے وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكًا اور اس نے تم کو بادشادہ بنایا۔اب کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ سب بنی اسرائیل بادشاہ بن گئے تھے۔یقینا بنی اسرائیل میں بڑے بڑے غریب بھی ہوں گے مگر موسی" ان سے یہی فرماتے ہیں کہ وَجَعَلَكُمْ تُلُوعًا اس نے تم سب کو بادشاہ بنایا۔مراد یہی ہے کہ جب کسی قوم میں سے بادشاہ ہو تو چونکہ وہ قوم اُن انعامات اور فوائد سے حصہ پاتی ہے جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ ہوگئی ) غرض جب جَعَلَكُمْ تُلُوعًا کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے یہ معنی نہیں کئے جاتے کہ ہر یہودی بادشاہ بنا تو وعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم سے یہ کیونکر نتیجہ نکال لیا جاتا