خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 163

خلافة على منهاج النبوة ۱۶۳ جلد دوم کرونگا۔یہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی صداقت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔دوسرا سوال زکوۃ کا تھا۔صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجئے کہ ان لوگوں سے عارضی صلح کرلیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوۃ نہیں لیں گے۔اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائیگی۔موجودہ صورت میں جب کہ وہ جوش سے بھرے ہوئے ہیں اور لڑنے مرنے کیلئے تیار ہیں ان سے زکوۃ وصول کرنا مناسب نہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے اور اب نہیں دیں گے تو میں اُس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھوں گا جب تک وہ رسی بھی اُن سے وصول نہ کرلوں۔اس پر صحابہ نے کہا کہ اگر جیش اسامہ بھی چلا گیا اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرے گا۔مدینہ میں تو یہ بڑھے اور کمزور لوگ ہیں اور یا صرف چند نوجوان ہیں وہ بھلا لاکھوں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔اے دوستو ! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ابو بکڑا کیلا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوگا۔۵۵ یہ دعویٰ اُس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی اور جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔پھر یہ جرات ، یہ دلیری ، یہ یقین اور یہ وثوق اُس میں کہاں سے پیدا ہوا۔اسی بات سے یہ یقین پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا تھا کہ میں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کام کی ذمہ داری ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں مقابلہ کیلئے نکل کھڑا ہوں کا میابی دینا یا نہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ کامیابی دینا چاہے گا تو آپ دے دے گا اور اگر نہیں دینا چاہے گا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔حضرت عمرؓ کے بہادرانہ کارنامے اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے تو وہی عمر جو ابو بکر کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے جیش اسامہ