خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 145
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۵ جلد دوم کر وجب کہ قوم نوح کے بعد خدا نے تمہیں خلیفہ بنایا اور اس نے تم کو بناوٹ میں بھی فراخی بخشی یعنی تمہیں کثرت سے اولا ددی پس تم اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو یاد کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل : اِس آیت میں خلفاء کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد صرف دنیوی با دشاہ ہیں اور نعمت سے مراد بھی نعمت حکومت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت کی ہے کہ تم زمین میں عدل و انصاف کو مد نظر رکھ کر تمام کام کرو ورنہ ہم تمہیں تباد کر دیں گے۔چنانچہ یہود کی نسبت اس انعام کا ذکر ان الفاظ میں فر ما تا ہے۔وَاذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أنْبِيَاء وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَاتْكُمْ ما لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّن العلمين الله یعنی اس قوم کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا راذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء کے ماتحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ مُلُوعًا کے ماتحت انہیں خلافت ملوکیت دی۔غرض پہلی خلافتیں دو قسم کی تھیں۔یا تو وہ خلافتِ نبوت تھیں اور یا پھر خلافت ملوکیت۔پس جب خدا نے یہ فرمایا يَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس سے یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات ان کو بھی ملیں گی اور انبیائے سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ اُمتِ محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔۵۱ خلافت ملوکیت کو چھوڑ کر صرف خلافت نبوت اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافت ملوکیت کا بھی ذکر کے ساتھ مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے ہے پھر خلافت ملوکیت کا ذکر چھوڑ کر صرف خلافتِ نبوت کے ساتھ اُس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ گو مسلمانوں سے دوسری آیات میں بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وليمَكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِی ارتضى لَهُمْ که خدا اپنے قائم کردہ خلفاء کے دین کو دنیا میں قائم کر کے رہتا ہے۔اب یہ اصول دنیا کے بادشاہوں کے متعلق نہیں اور نہ اُن کے دین کو خدا تعالیٰ نے کبھی دنیا میں قائم کیا بلکہ یہ اصول روحانی خلفاء کے متعلق ہی ہے۔پس یہ آیت ظاہر کر رہی ہے