خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 131

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم پڑا کہ زمانہ ایسا خراب آ گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ خدا کا انکار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر خدا ہے تو کوئی دلیل دو۔اس پر لوگوں نے حسب دستور ان سے بھی کہا کہ سنائیے مولا نا آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا بحث فضول ہے کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا ہے اور کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا نہیں۔یہ سنتے ہی لوگوں میں اس کا بھانڈا پھوٹ گیا اور اُنہوں نے دھکے دے کر اسے مجلس سے باہر نکال دیا۔تو دنیا میں اس کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر فإن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَ الرّسولِ کے یہ معنی کئے جائیں کہ جب بھی خلیفہ کے کسی حکم سے کسی کو اختلاف ہو اس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو دھگا دے کر کہے کہ تیرا حکم خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہے تو اس کو اتنے دھکے ملیں کہ ایک دن بھی خلافت کرنی اس کیلئے مشکل ہو جائے۔پس یہ معنی عقل کے بالکل خلاف ہیں۔ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگوں کو اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے اگر وہ صحیح معنی سمجھ لیتے تو ان کو کبھی ٹھوکر نہ لگتی۔أولى الأمْرِ مِنْكُمُ والی آیت دُنیوی حکام دو وسیع معنی کیا ہیں؟ ان کو صحیح معلوم کر نے کیلئے پہلے یہ اور خلفائے راشدین دونوں پر حاوی ہے سمجھ لینا چا ہیے کہ یہ آیت عام ہے اس میں خالص دُنیوی حکام بھی شامل ہیں اور خلفائے راشدین بھی شامل ہیں پس یہ آیت خالص اسلامی خلفاء کے متعلق نہیں بلکہ دنیوی حکام کے متعلق بھی ہے۔اب اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ آیت اپنے مطالب کے لحاظ سے عام ہے اور اس میں خالص دُنیوی حکام اور خلفائے راشدین دونوں شامل ہیں یہ سمجھ لو کہ ان دونوں کے بارہ میں قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام الگ الگ ہیں۔جو خالص دُنیوی حکام ہیں ان کیلئے شریعتِ اسلامی کے الگ احکام ہیں۔اور جو خلفائے راشدین ہیں ان کیلئے الگ احکام ہیں۔پس جب خدا نے یہ کہا کہ فَإِن تَنَازَعْتُمْ في شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جب تمہارا أولى الأمر سے جھگڑا ہو تو تم یہ دیکھنے لگ جاؤ کہ خدا اور رسول کا حکم تم کیا سمجھتے ہو بلکہ