خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 130
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم میں خلیفہ صرف اپنے آپ پر ہی حکومت کرنے کیلئے رہ جائے ،کسی اور پر اس نے کیا حکومت کرنی ہے۔بالخصوص موجودہ زمانہ میں تو ایسا ہے کہ آجکل ماننے والے کم ہیں اور مجتہد زیادہ۔ہر شخص اپنے آپ کو اہل الرائے خیال کرتا ہے۔اس صورت میں خلیفہ تو اپنا بوریا بچھا کر الگ شور مچاتا رہے گا کہ یوں کرو اور لوگ یہ شور مچاتے رہیں گے کہ پہلے ان حکموں کو قرآن اور حدیث کے مطابق ثابت کرو ، تب مانیں گے ورنہ نہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی دینی امرایسا نہیں جسے ساری دنیا یکساں طور پر مانتی ہو بلکہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک جاہل شخص تھا جسے مولویوں کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق تھا مگر چونکہ اسے دین سے کوئی واقفیت نہ تھی اس لئے جہاں جا تا لوگ دھکے دے کر نکال دیتے۔ایک دفعہ اس نے کسی دوست سے ذکر کیا کہ مجھے علماء کی مجلس میں بیٹھنے کا بڑا شوق ہے مگر لوگ مجھے بیٹھنے نہیں دیتے میں کیا کروں؟ اس نے کہا ایک بڑا سا جبہ اور پگڑی پہن لو۔لوگ تمہاری صورت کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ کوئی بہت بڑا عالم ہے اور تمہیں علماء کی مجلس میں بیٹھنے سے نہیں روکیں گے۔جب اندر جا کر بیٹھ جاؤ اور تم سے کوئی بات پوچھی جائے تو کہہ دینا کہ اختلافی مسئلہ ہے بعض نے یوں لکھا ہے اور بعض نے اس کے خلاف لکھا ہے اور چونکہ مسائل میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے تمہاری اس بات سے کسی کا ذہن ادھر منتقل نہیں ہو گا کہ تم کچھ جانتے نہیں۔چنانچہ اس نے ایک بڑا سائبہ پہنا، پورے تھان کی پگڑی سر پر رکھی اور ہاتھ میں عصا لے کر اس نے علماء کی مجالس میں آنا جانا شروع کر دیا۔جب کسی مجلس میں بیٹھتا تو سر جُھکا کر بیٹھا رہتا۔لوگ کہتے کہ جناب آپ بھی تو کچھ فرما ئیں۔اس پر وہ گردن ہلا کر کہہ دیتا اس بارہ میں بحث کرنا لغو ہے۔علمائے اسلام کا اس کے متعلق بہت کچھ اختلاف ہے کچھ علماء نے تو اس طرح لکھا ہے جس طرح یہ مولا نا فرماتے ہیں اور کچھ علماء نے اُس طرح لکھا ہے جس طرح وہ مولا نا فرماتے ہیں۔لوگ سمجھتے کہ اس شخص کا مطالعہ بڑا وسیع ہے۔چنا نچہ کہتے بات تو ٹھیک ہے جھگڑا چھوڑو اور کوئی اور بات کرو۔کچھ مدت تو اسی طرح ہوتا رہا اور علماء کی مجالس میں اس کی بڑی عزت و تکریم رہی۔مگر ایک دن مجلس میں یہ ذکر چل