خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 124
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۴ جلد دوم نظام اسلامی کے متعلق قرآنی اصول سر دست میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ نظام اسلامی کے متعلق قرآن کریم نے عام احکام بیان کئے ہیں اور ان میں مندرجہ ذیل اصول بیان ہوئے ہیں :۔(1) قومی نظام ایک امانت ہوتا ہے کیونکہ اس کا اثر صرف ایک شخص پر نہیں پڑتا بلکہ ساری قوم پر پڑتا ہے۔پس اس کے بارہ میں فیصلہ کرتے وقت اپنی اغراض کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ قوم کی ضرورتوں اور فوائد کو دیکھنا چاہئے۔(۲) اس امانت کی ادائیگی کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے جس کے بغیر یہ امانت ادا نہیں ہو سکتی۔یعنی افراد فرداً فرداً اس امانت کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ضرور ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے کوئی منصرم ہوں۔(۳) ان منصرموں کو قوم منتخب کرے۔(۴) انتخاب میں یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ جنہیں منتخب کیا جائے وہ ان امانتوں کو پورا کرنے کے اہل ہوں۔اس کے سوا اور کوئی امر انتخاب میں مدنظر نہیں ہونا چاہئے۔(۵) جن کے سپرد یہ کام کیا جائے گا وہ امرقومی کے مالک نہ ہوں گے بلکہ صرف منصرم ہوں گے۔کیونکہ فرما یا رانی آفیما یعنی ان کے سپرد اس لئے یہ کام نہ ہو گا کہ وہ باپ دادا سے اس کے وارث اور مالک ہوں گے بلکہ اس لئے کہ وہ اس خدمت کے اہل ہوں گے۔یہ احکام کسی خاص مذہبی نظام کے متعلق نہیں بلکہ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے عام ہیں خواہ مذہبی نظام ہوا اور خواہ دُنیوی ہو اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ملوکیت کو اپنے نظام کا حصہ تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسلام صرف انتخابی نظام کو تسلیم کرتا ہے اور پھر اس نظام کے بارہ میں فرماتا ہے کہ جن کے سپرد یہ کام ہوا فراد کو چاہئے کہ ان کی اطاعت کریں۔کیا اسلام کسی خالص دُنیوی حکومت کو تسلیم کرتا ہے اگر کہا جائے کہ کیا اسلام خالص دنیوی حکومت کو بھی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام سب صحیح سامانوں کی موجودگی میں جبکہ سارے سامان اسلام کی تائید میں ہوں اور جبکہ اسلام آزاد ہو