خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 120
خلافة على منهاج النبوة ۱۲۰ جلد دوم کچھ نہیں کیا۔اسی جنت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ولمن خاف مقام ربه جنتن ۳ کہ وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے ہیں اُن کیلئے دو جنتیں ہیں۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔دمِن دُونِهِمَا جَنَّتن ۳۸ که دو جنتیں دنیا میں ہونگی اور دو ہی اگلے جہاں میں۔کیونکہ ایک باغ مرد نے لگایا ہوگا اور ایک عورت نے۔اس کو جنتین کہا گیا ہے اور اسی کو جنت قرار دیا گیا ہے۔گویا اس باغ کی دو حیثیتیں بھی ہیں اور ایک بھی۔دو اس لحاظ سے کہ ایک مرد کی کوششوں کا نتیجہ ہوگا اور دوسرا عورت کی کوششوں کا نتیجہ اور ایک اس لحاظ سے کہ مرد و عورت دونوں کی یہ مشترکہ جنت ہوگی۔پھر فرماتا ہے کہ صرف اگلے جہان میں ہی یہ دو جنت نہیں ہونگے بلکہ ومِن دُونِهِما جنتن اس دنیا میں بھی دو جنت ہیں جن میں سے ایک کی تعمیر مرد کے سپر د ہے اور ایک کی تعمیر عورت کے سپرد۔پس مومنوں کو دو جنتیں تو اس دنیا میں ملتی ہیں اور دو اگلے جہان میں یعنی اسے جسمانی اور روحانی دونوں رنگ کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔جو اپنا دائمی اثر چھوڑ جاتی ہیں۔چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا والبقيتُ الشيحَتُ خَيْرُ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرا ملا ۳۹ے یعنی جو لوگ مال و اسباب سے دُنیوی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں ایک وقتی فائدہ تو مل جاتا ہے لیکن جو لوگ ایسے اعمال کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوں اُن کے عمل ابدیت کا مقام پالیتے ہیں اور نہ صرف انہیں حاضر ثواب ملتا ہے بلکہ اُن کی وجہ سے ثواب کا ایک دائمی سلسلہ جاری ہوتا ہے۔اس حدیث کی تشریح کہ جنت یہ حدیث کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر ماں ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے اچھی تربیت کرے تو اچھی نسل پیدا ہوگی اور جو انعامات باپ حاصل کرے گا وہ دائمی ہو جائیں گے لیکن اگر ماں اچھی تربیت نہیں کرے گی تو باپ کے کمالات باپ تک ختم ہو جائیں گے اور دنیا کو جنات عدن حاصل نہیں