خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 119

خلافة على منهاج النبوة 119 جلد دوم شیطان اُسے اُجاڑ کر رکھ دے۔ایک عظیم الشان نکتہ پس یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ حیات ملی کے قیام کیلئے مردوں اور عورتوں دونوں کو مل کر کوشش کرنی چاہئے۔جب تک عورتوں کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرو گے اُس وقت تک تم یقین رکھو کہ تم جنت نہیں بنا سکو گے۔اگر تم اپنی کوشش سے ساری دنیا کو بھی ایک دفعہ نمازی بنا لو تو اس کا کیا فائدہ جب کہ اُن نمازیوں کی اولادوں کو انہی کی مائیں بے نماز بنانے میں مصروف ہوں۔اس طرح تو یہی ہوگا کہ تم جنت بناؤ گے اور عورتیں اُس جنت کو برباد کرتی چلی جائیں گی۔ہمارا ایک رشتہ دار ہوا کرتا تھا جو دین کا سخت مخالف اور خدا اور رسول کے احکام پر ہمیشہ ہنسی اور تمسخر اڑایا کرتا تھا۔ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور علاج کیلئے حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا۔حضرت خلیفہ اول نے باتوں باتوں میں اس سے کہا کہ مرزا صاحب ! آپ کے پہلو میں پانچ وقت لوگ مسجد میں آ کر نماز میں پڑھتے ہیں کیا آپ کو کبھی اس پر رشک نہیں آیا ؟ اور کیا آپ کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ آپ کو بھی نمازیں پڑھنی چاہئیں ؟ اس نے یہ سن کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا مولوی صاحب میں تو بچپن سے ہی سلیم الفطرت واقع ہوا ہوں۔چنانچہ ان دنوں میں بھی جب میں لوگوں کو دیکھتا کہ انہوں نے سر نیچے اور سرین اونچے کئے ہوئے ہیں تو میں ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے احمق لوگ ہیں۔اب بتاؤ جب مائیں ایسے سلیم الفطرت بچے پیدا کرنے شروع کر دیں تو واعظوں کے وعظ سے جو جنت تیار ہو آیا وہ ایک دن بھی قائم رہ سکتی ہے۔اسی طرح کوئی مسئلہ لے لو علمی ہو یا مذہبی ، سیاسی ہو یا اقتصادی ، اگر عورت کو اپنے ساتھ شریک نہیں کیا جائے گا تو ان مسائل کے بارہ میں وہ تمہاری اولاد کو بالکل ناواقف رکھے گی اور تمہارا علم تمہارے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ دائمی جنت مرد کو عورت کے بغیر نہیں مل سکتی اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔پس وہ جنہوں نے اسلامی جنت کو چکلہ قرار دیا ہے انہوں نے اپنے محبث نفس کا اظہار کرنے کے سوا اور