خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 118
خلافة على منهاج النبوة ۱۱۸ جلد دوم عورت اور مرد کے تعاون کے بغیر نہ دُنیوی اگر لوگ اس نکتہ کو سجھتے اور قومی زندگی میں عورت کو شریک رکھتے جنت حاصل ہو سکتی ہے اور نہ اُخروی اور اس کی اہمیت اور قدرو قیمت کو پہچانتے تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے اور نہ دنیا کی وہ حالت ہوتی جو دکھائی دے رہی ہے بلکہ یہ دنیا انسانوں کیلئے جنت ہو جاتی اور وہ یہیں جنت کو پالیتے۔مگر جو لوگ عورت کے بغیر جنت حاصل کرتے ہیں اُن کی جنت حقیقی جنت نہیں ہوتی کیونکہ جنت کی خصوصیت یہ ہے کہ جنت عدن ہو۔اور عورت کے بغیر جنت عدن نصیب نہیں ہوتی بلکہ ادھر مرد جنت تیار کرتا ہے اور اُدھر عورت اُس کی اولاد کو جنت سے باہر نکال دیتی ہے کیونکہ اولا د کی صحیح تربیت کے بغیر قوم کو دائمی جنت حاصل نہیں ہو سکتی اور اولاد کی تربیت کا اکثر حصہ چونکہ عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لئے اس جنت کی تعمیل کیلئے عورت کے تعاون اور اس کو اپنے ساتھ شریک کرنے کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہے گی۔جب عورت کو تعلیم حاصل ہوگی ، جب عورت کے اندر تقوی ہو گا ، جب عورت کے اندر دین کی محبت ہوگی ، جب عورت کے دل میں خدا اور اُس کے رسول کے احکام پر چلنے کی ایک والہا نہ تڑپ ہوگی تو ناممکن ہے کہ وہ یہی جذبات اپنی اولاد کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔پس مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ آج کی جنت تیار کریں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ گل کی جنت تیار کریں۔مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ جنت بنائیں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس جنت کیلئے نئے مالی پیدا کریں۔اگر ایک طرف مرد اُس جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی تعمیر میں لگی ہوتی ہے۔اگر ایک طرف مرد اس کی حفاظت کرتا ہو اور دوسری طرف عورت اس کی حفاظت کیلئے نئے سے نئے مالی پیدا کرتی چلی جاتی ہو تو پھر کون ہے جو اُس جنت کو برباد کر سکے۔کون ہے جو قومی وحدت، قومی عظمت اور قومی شان کو نقصان پہنچا سکے۔مگر جس دن عورت کو اس جنت کی تعمیر میں شریک ہونے سے روک دیا جائے گا اُسی دن اگلے مالی پیدا ہونے بند ہو جائیں گے اُسی دن پہلوں کی ٹرینینگ ختم ہو جائے گی اور جب پہلوں کی ٹرینینگ ختم ہوگئی اور اگلوں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تو وہ جنت کبھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ ضرور ہے کہ