خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 117

خلافة على منهاج النبوة 112 جلد دوم وَنُدْخِلُهُمْ ظِلَّا ظَلِيلاً مگر جو لوگ ایمان لانے والے ہونگے اور اعمال صالحہ بجالائیں گے، اُن کو ہم اعلی درجہ کی حکومتیں بخشیں گے اور ان جنات میں اُن کے ساتھ اُن کی بیویاں بھی ہونگی اور اُن سب کو آرام اور سکھ کا بہت لمبا زمانہ بخشا جائے گا۔ان آیات میں دراصل اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہود جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت نقصان اٹھائیں گے اور ہمیشہ عذاب میں مبتلاء رہیں گے لیکن مومن جو اس فضل کو تسلیم کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں جنتی زندگی دے گا اور اُن کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ہونگی۔اَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ کے الفاظ پر دشمنانِ ازواج مطهرة کے الفاظ پر کئی نادان دشمنان اسلام اعتراض کرتے رہتے ہیں اسلام کا ایک ناواجب اعتراض کہ اسلام جنت کو ایک چکلہ بناتا ہے کیونکہ عورتوں کا بھی ساتھ ہی ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے جنت میں جہاں مرد ہو نگے وہاں عورتیں بھی ہونگی حالانکہ وہ نادان نہیں جانتے کہ چکلہ تو وہ خود اپنے محبتِ نفس کی وجہ سے بناتے ہیں۔ورنہ اسلام تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح مرد جنت کے حقدار ہیں عورتیں بھی حقدار ہیں اور یہ کہ جنت مرد اور عورت کے تعاون سے بنتی ہے، اکیلا مرد جنت نہیں بنا سکتا۔چنانچہ دیکھ لو اس رکوع میں دُنیوی حکومتوں کا ذکر ہے اور ان حکومتوں کا ذکر کرتے کرتے اللہ تعالیٰ یہ بتا تا ہے کہ اس جنت میں عورتوں کا شریک ہونا بھی ضروری ہے اور اگر وہ شریک نہ ہوں تو یہ جنت مکمل نہیں کہلا سکتی۔پس جنت مرد اور عورت دونوں مل کر بناتے ہیں اور اگر وہ دونوں متحدہ طور پر کوشش نہ کریں تو کبھی یہ جنت نہیں بن سکتی نہ دنیا کی جنت اور نہ اُخروی جنت۔بلکہ دنیا کی جنت کی تعمیر میں بھی مرد اور عورت کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور اُخروی جنت کی تعمیر میں بھی مرد کے ساتھ عورت کی شراکت ضروری ہے۔اگر وہ دونوں مل کر اس جنت کی تعمیر نہیں کریں گے تو کبھی خُلدين فيها والی نعمت کو وہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔