خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 116

خلافة على منهاج النبوة ہے۔117 جلد دوم فقد أتينا ال ابرهيم الكتب والحِكْمَةَ وَآتَيْنَهُمْ مُّلْكًا عَظِيمًا - تم جو بخل کرتے ہو اور کہتے ہو کہ انہیں حکومت اور خلافت کیوں مل گئی تو اتنا تو سوچو کہ یہ حکومت اور سلطنت کس کو ملی ہے؟ کیا جسے حکومت ملی ہے وہ آل ابراہیم میں شامل نہیں۔اگر ہے تو پھر تمہارے حسد سے کیا بنتا ہے۔خدا نے پہلے بھی آل ابراہیم کو حکومت اور سلطنت دی اور اب بھی وہ آل ابراہیم کو حکومت اور سلطنت دے گا۔فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَ مِنْهُمْ مِّن صَدَّ عَنْهُ ، وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا۔ہم اس سے پہلے بھی آل ابرا ہیم کو حکومت دے چکے ہیں۔جن لوگوں نے اُن کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا وہ عزت پاگئے اور جنہوں نے انکار کیا اُن کو سزا مل گئی۔فرماتا ہے یہ حکومت جو آل ابرا ہیم کو دی جائے گی یہ لوگوں کیلئے بڑی رحمت اور برکت کا موجب ہوگی۔جب تک وہ اس رحمت کے نیچے رہیں گے اور اس حکومت سے بھاگنے کی کوشش نہیں کریں گے وہ بڑے آرام اور سکھ میں رہیں گے مگر جب انہوں نے انکار کر دیا تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں مبتلا ء کرے گا جس سے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دُکھوں میں مبتلاء رہیں گے۔كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلُنْهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ۔ان الله كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا - انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ ایک عذاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اُس کی تکلیف اسے پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ایک با دشاہ خواہ کتنا ہی ظالم ہو جب اُس کی حکومت پر کچھ عرصہ گزرجاتا ہے تو اُس کا ظلم لوگوں کو پہلے جیسا محسوس نہیں ہوتا اور وہ خود بھی نرمی کا پہلو اختیار کرنے لگ جاتا ہے لیکن اگر وہ بدل جائے اور اُس کی جگہ کوئی اور ظالم بادشاہ آ جائے تو اُس کا ظلم بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے اگر تم نے اس انعام کو ر ڈ کر دیا تو پھر ظالم بادشاہ تم پر حکومتیں کریں گے اور وہ حکومتیں جلد جلد بدلیں گی تاکہ تمہیں اپنے کئے کی سزا ملے۔وَالّذينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تحْتِهَا الأَنْهرُ خُلِدِينَ فِيهَا اَبَدًا ، لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجُ مُطَهَّرَةٌ