خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 115
خلافة على منهاج النبوة ۱۱۵ جلد دوم نے اُن پر لعنت ڈالی تو اُن کا کیسا بُرا حال ہوا۔باوجود اس کے کہ مال و دولت اُن کے پاس بہت ہے مختلف قو میں مختلف وقتوں میں اُٹھتی اور انہیں ذلیل ورسوا کرتی رہتی ہیں۔یہی حال غیر مبائعین کا ہے۔جب میری بیعت ہوئی تو اُس وقت قادیان میں دو ہزار کے قریب آدمی جمع تھے اور سوائے پچاس ساٹھ کے باقی سب نے میری بیعت کر لی۔مگر ”پیغام صلح، نے لکھا کہ : - وو حاضر الوقت جماعت میں سے نصف کے قریب لوگوں نے بیعت نہ کی اور افسوس کرتے ہوئے مسجد سے چلے آئے۔۳۴ پھر اسی پیغام صلح میں انہوں نے میرے متعلق اعلان کیا کہ :۔ا بھی بمشکل قوم کے بیسویں حصہ نے خلیفہ تسلیم کیا ہے ۳۵ گو یا پانچ فیصدی آدمی ہمارے ساتھ تھے اور پچانوے فیصدی اُن کے ساتھ۔مگر اب کیا حال ہے۔اب وہ بار بار لکھتے ہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے وابستہ ہے۔بلکہ اب تو ان کے دلائل کا رُخ ہی بدل گیا ہے۔پہلے وہ اپنی سچائی کی یہ دلیل دیا کرتے تھے کہ جماعت کی اکثریت اُن کے ساتھ ہے مگر جب اکثریت خدا تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کر دی تو وہ یہ کہنے لگ گئے کہ جماعت کی اکثریت کا کسی بات کا قائل ہونا اُس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوتا۔قرآن میں صاف آتا ہے کہ اَكْثَرُهُمْ فَسِقُون ۳۶ گویا جب تک وہ زیادہ رہے اُن کی یہ دلیل رہی کہ نبی کو ماننے والوں کی اکثریت گمراہ نہیں ہو سکتی اور جب ہم زیادہ ہو گئے تو اکثرُهُمْ فَسِقُون کا مصداق ہمیں قرار دے دیا گیا۔بہر حال انہوں نے اتنا تو ضرور اقرار کر لیا کہ اُن کے نصیر جاتے رہے ہیں۔اور یہی اس قرآنی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔پھر فرماتا ہے۔آمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذَا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا ان لوگوں کو تو یہ حسد کھائے چلا جاتا ہے کہ انہیں حکومت اور طاقت کیوں نہ مل گئی۔حالانکہ اگر دنیا کی حکومت ان کے قبضہ میں ہوتی تو یہ بال برابر بھی لوگوں کو کوئی چیز نہ دیتے۔نقیر کھجور کی گٹھلی کے نشان کو کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ان کی طبیعت میں سخت بخل ہے۔جیسے پیغامیوں کو یہی بخل کھا گیا کہ ایک لڑکے کو خلافت کیوں مل گئی۔فر ما تا