خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 104

خلافة على منهاج النبوة ۱۰۴ جلد دوم آواز آئی کہ جماعت ایک لڑکے کی غلامی کس طرح کر سکتی ہے۔اس پر میں اور زیادہ حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے تو صرف چند سوالات دریافت کئے ہیں ان کے ساتھ جماعت کی غلامی یا عدم غلامی کا کیا تعلق ہے مگر باوجو د سوچنے اور غور کرنے کے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس بچے سے کون مراد ہے۔آخر صبح کی نماز کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اول سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور میں نے کہا کہ نہ معلوم آج مسجد میں کیا جھگڑا تھا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ ہم ایک بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں اسی کی خاطر یہ تمام فساد ڈلوایا جا رہا ہے۔میں تو نہیں سمجھ سکا کہ یہ بچہ کون ہے۔حضرت خلیفہ اول میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔تمہیں نہیں پتہ ؟ اس سے مراد تم ہی تو ہو۔غالبا شیخ صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ تمام سوالات میں نے ہی لکھوائے ہیں اور میری وجہ سے ہی جماعت میں یہ شور اُٹھا ہے۔مسئلہ خلافت کے متعلق اس کے بعد حضرت خلیفہ اوّل تقریر کرنے کیلئے تشریف لائے۔اس تقریر کے متعلق بھی پہلے۔حضرت خلیفہ اول کی تقریر میں نے ایک رک باد دیکھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی رؤیا جلسہ ہے جس میں حضرت خلیفہ اول کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی لشکر ہے جو آپ پر حملہ آور ہوا ہے۔اس وقت میں بھی جلسہ میں آیا اور آپ کے دائیں طرف کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ حضور ! کوئی فکر نہ کریں ہم آپ کے خادم ہیں اور آپ کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں تک دینے کیلئے تیار ہیں۔ہم مارے جائیں گے تو پھر کو ئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا۔ہماری موجودگی میں آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔خواب میں نے حضرت خلیفہ اول کو سنائی ہوئی تھی۔چنانچہ اس جلسہ میں شامل ہونے کیلئے جب میں آیا تو مجھے اُس وقت وہ خواب یاد نہ رہی اور میں حضرت خلیفہ اول کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔اس پر آپ نے فرمایا۔میاں ! یہاں سے اُٹھ کر دائیں طرف آجاؤ اور پھر خود ہی فرمایا۔تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے تو معلوم نہیں۔اس پر آپ نے میری اُسی خواب کا ذکر کیا اور فر مایا کہ اس خواب کی وجہ سے میں نے تمہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا ہے۔