خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 102
خلافة على منهاج النبوة ۱۰۲ جلد دوم حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں کچھ دنوں بعد جب جماعت کے دوستوں میں اس قسم کے سوالات میر محمد اسحاق صاحب کے چند سوالات کا چرچا ہونے لگا کہ خلیفہ کے کیا اختیارات ہیں اور آیا وہ حاکم ہے یا صدرانجمن احمد یہ حاکم ہے تو میر محمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں اس مسئلہ کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے وہ سوالات باہر جماعتوں میں بھجوا دیئے اور ایک خاص تاریخ مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے نمائندے جمع ہو جائیں تا کہ سب سے مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جا سکے مگر مجھے ابھی تک ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔یہاں تک کہ مجھے ایک رؤیا ہوا۔میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے جس کا ایک حصہ مکمل ہے اور دوسرا ایک رویا ، ہمکمل۔نامکمل حصے پر اگر چہ بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی اینٹیں وغیرہ رکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔اس حصہ عمارت پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں جن میں سے ایک میر محمد اسحاق صاحب بھی ہیں۔اچانک وہاں کڑیوں پر ہمیں کچھ بھوسا دکھائی دیا۔میر محمد اسحاق صاحب نے جلدی سے ایک دیا سلائی کی ڈبیہ میں سے ایک دیا سلائی نکال کر کہا میرا جی چاہتا ہے کہ اس بُھو سے کو آگ لگا دوں۔میں انہیں منع کرتا ہوں مگر وہ نہیں رکھتے۔آخر میں انہیں سختی سے کہتا ہوں کہ اس بھوسے کو ایک دن آگ تو لگائی ہی جائے گی مگر ابھی وقت نہیں آیا اور یہ کہہ کر میں دوسری طرف متوجہ ہو گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے کچھ شور سا سنائی دیا۔میں نے منہ پھیرا تو دیکھا۔میر محمد اسحاق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جلتی نہیں ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دیا سلائی نکال کر وہ اس طرح رگڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھو سے کو آگ لگا دیں۔میں یہ دیکھتے ہی ان کی طرف دوڑ پڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے ایک دیا سلائی جل گئی جس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔میں یہ دیکھ کر آگ میں کود پڑا اور اسے جلدی سے بجھا دیا مگر اس دوران میں چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔میں نے یہ خواب لکھ کر