خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 101

خلافة على منهاج النبوة 1+1 جلد دوم شروع کر دی اور کہا کہ اگر اس وقت ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی گئی تو ہماری جماعت تباہ ہو جائے گی پھر انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی تو یہی ہوا تھا کہ قوم نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی اس لئے اب بھی ہمیں ایک شخص کے ہاتھ پر ت کر لینی چاہئے اور اس منصب کیلئے حضرت مولوی صاحب سے بڑھ کر ہماری جماعت میں اور کوئی شخص نہیں۔مولوی محمد علی صاحب کی بھی یہی رائے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تمام جماعت کو مولوی صاحب کی بیعت کرنی چاہئے۔آخر جماعت نے متفقہ طور پر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ لوگوں سے بیعت لیں۔اس پر باغ میں تمام لوگوں کا اجتماع ہوا اور اس میں حضرت خلیفہ اول نے ایک تقریر کی اور فرمایا کہ مجھے امامت کی کوئی خواہش نہیں میں چاہتا ہوں کہ کسی اور کی بیعت کر لی جائے۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں پہلے میرا نام لیا پھر ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کا نام لیا۔پھر ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا نام لیا اسی طرح بعض اور دوستوں کے نام لئے لیکن ہم سب لوگوں نے متفقہ طور پر یہی عرض کیا کہ اس منصب خلافت کے اہل آپ ہی ہیں چنانچہ سب لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔خلیفہ وقت کے اختیارات ابھی آپ کی بیعت پر پندرہ میں دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے اور کہنے لگے کہ میاں صاحب! کبھی آپ نے اس بات پر غور بھی کیا ہے کہ ہمارے سلسلہ کا نظام کیسے چلے گا ؟ میں نے کہا اس پر اب اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت جو کر لی ہے۔وہ کہنے لگے وہ تو ہوئی پیری مریدی۔سوال یہ ہے کہ سلسلہ کا نظام کس طرح چلے گا؟ میں نے کہا میرے نزدیک تو اب یہ بات غور کرنے کے قابل ہی نہیں کیونکہ جب ہم نے ایک شخص کی بیعت کر لی ہے تو وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح سلسلہ کا نظام قائم کرنا چاہئے ہمیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔اس پر وہ خاموش تو ہو گئے مگر کہنے لگے یہ بات غور کے قابل ہے۔