خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 91
خلافة على منهاج النبوة ۹۱ جلد دوم پس مہاجرین نے سمجھا کہ اگر اس وقت انصار میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو گیا تو اہل عرب کے لئے سخت مشکل پیش آئے گی اور ممکن ہے کہ ان میں سے اکثر اس ابتلاء میں پورے نہ اتریں چنانچہ سب مہاجرین وہیں آگئے۔ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بھی شامل تھے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر بیان کرنے کے لئے ایک بہت بڑا مضمون سوچا ہوا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں جاتے ہی ایک ایسی تقریر کروں گا جس سے تمام انصار میرے دلائل کے قائل ہو جائیں گے اور وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ انصار کی بجائے مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کریں مگر جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر تقریر کرنے کیلئے کھڑے ہو گئے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ انہوں نے بھلا کیا بیان کرنا ہے؟ مگر خدا کی قسم ! جتنی باتیں میں نے سوچی ہوئی تھیں وہ سب انہوں نے بیان کر دیں بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پاس سے بھی بہت سے دلائل دیئے۔تب میں سمجھا کہ میں ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔۲۴ غرض مہاجرین نے انہیں بتایا کہ اس وقت قریش میں سے ہی امیر ہونا ضروری ہے اور رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بھی پیش کی کہ الْأَئِمَّةُ مِنَ الْقُرَيْشِ ۲۵ اور ان کی سبقتِ دین اور ان قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ دین کیلئے کرتے چلے آئے تھے۔اس پر حباب بن المنذ رخز رجی نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس بات کو نہیں مان سکتے کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہونا چاہئے ہاں اگر آپ لوگ کسی طرح نہیں مانتے اور آپ کو اس پر بہت ہی اصرار ہے تو پھر مِنَّا آميرو مِنْكُمْ امیر پر عمل کیا جائے یعنی ایک خلیفہ ہم میں سے ہوا اور ایک آپ لوگوں میں سے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ میاں سوچ سمجھ کر بات کرو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول کریم ہے نے فرمایا ہے کہ ایک وقت میں دوا میروں کا ہونا جائز نہیں ۲؎ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیثیں تو ایسی موجود تھیں جن میں رسول کریم ﷺ نے نظام خلافت کی تشریح کی ہوئی تھی مگر آپ کی زندگی میں صحابہ کا ذہن اِدھر منتقل نہیں ہوا اور اس کی وجہ وہی خدائی حکمت تھی جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ) پس تمہارا یہ مطالبہ کہ ایک امیر تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے ، عقلاً اور شرعاً کسی