خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 90

خلافة على منهاج النبوة جلد دوم انصار اور مہاجرین میں اختلاف غرض اب انصار اور مہاجرین میں اختلاف ہو گیا۔انصار کا یہ خیال تھا کہ چونکہ رسول کریم ﷺ نے اصل زندگی جو نظام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے اندر گزاری ہے اور مکہ میں کوئی نظام نہیں تھا اس لئے نظام حکومت ہم ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور خلافت کے متعلق ہمارا ہی حق ہے کسی اور کا حق نہیں۔دوسری دلیل وہ یہ بھی دیتے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے اور طبعاً ہماری بات کا ہی لوگوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے، مہاجرین کا اثر نہیں ہوسکتا پس رسول کریم ﷺ کا جانشین ہم میں سے ہونا چاہئے مہاجرین میں سے نہیں۔اس کے مقابلہ میں مہاجرین یہ کہتے کہ رسول کریم میہ کی جتنی لمبی صحبت ہم نے اُٹھائی ہے اتنی لمبی صحبت انصار نے نہیں اُٹھائی اس لئے دین کو سمجھنے کی جو قابلیت ہمارے اندر ہے وہ انصار کے اندر نہیں۔اس اختلاف پر ابھی دوسرے لوگ غور ہی کر رہے تھے اور وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے تھے کہ اس آخری گروہ نے جو انصار کے حق میں تھا بنی ساعدہ کے ایک برآمدہ میں جمع ہو کر اس بارہ میں مشورہ شروع کر دیا اور سعد بن عبادہ جو خزرج کے سردار تھے اور نقباء میں سے تھے ان کے بارہ میں طبائع کا اس طرف رُجحان ہو گیا کہ انہیں خلیفہ مقرر کیا جائے۔چنانچہ انصار نے آپس میں یہ گفتگو کرتے ہوئے کہ ملک ہمارا ہے، زمینیں ہماری ہیں ، جائدادیں ہماری ہیں اور اسلام کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم میں سے کوئی خلیفہ مقرر ہو، فیصلہ کیا کہ اس منصب کیلئے سعد بن عبادہ سے بہتر اور کوئی شخص نہیں۔یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ بعض نے کہا اگر مہاجرین ۲۳ اس کا انکار کریں گے تو کیا ہوگا ؟ اس پر کسی نے کہا کہ پھر ہم کہیں گے مِنَّا اَمِيْرٌ وَمِنْكُمْ اَمِيرٌ یعنی ایک امیر تم میں سے ہو جائے اور ایک ہم میں سے۔سعد جو بہت دانا آدمی تھے انہوں نے کہا کہ یہ تو پہلی کمزوری ہے۔یعنی یا تو ہم میں سے خلیفہ ہونا چاہئے یا ان میں سے۔مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ امیر کہنا تو گویا خلافت کے مفہوم کو نہ سمجھنا اور اسلام میں رخنہ ڈالنا ہے۔اس مشورہ کی جب مہاجرین کو اطلاع ہوئی تو وہ بھی جلدی سے وہیں آگئے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر مہاجرین میں سے کوئی خلیفہ نہ ہوا تو عرب اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔مدینہ میں بیشک انصار کا زور تھا مگر باقی تمام عرب مکہ والوں کی عظمت اور ان کے شرف کا قائل تھا۔