خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 88
خلافة على منهاج النبوة ΑΛ جلد دوم الگ رہا یہ بھی خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہونے والے ہیں۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اس اچانک صدمہ نے جو ان کی توقع اور امید کے بالکل خلاف تھا حضرت عمرؓ کو دیوانہ سا بنا دیا اور انہیں کسی طرح یہ یقین بھی نہیں آتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔وہ جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہ یقین نہیں آتا تھا کہ آپ وفات پاگئے ہیں اور جن کے دل میں آپ کی محبت کا احساس اس قدر شدت سے تھا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ جو شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن اُڑا دوں گا ان کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آب فوت ہونے والے ہیں آپ حضرت علیؓ کے حق میں کوئی بات نہ لکھوا دیں آپ کو کچھ لکھنے سے روک دیا ہو۔بلکہ اگر ہم غور کریں تو شیعوں کی اِن روایات سے حضرت علی پر اعتراض آتا ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی توقع کر رہے تھے جبکہ حضرت عمرؓ شدت محبت کی وجہ سے یہ سمجھ رہے تھے کہ معمولی بیماری کی تکلیف ہے آپ اچھے ہو جائیں گے اور ابھی وفات نہیں پاسکتے۔پس اس سے حضرت علی پر تو اعتراض وارد ہوتا ہے مگر حضرت عمر پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ یہ امران کی نیکی ، تقوی اور فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نبی کی قومی زندگی کی غرض میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ نبی کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ نبی بھی الہام سے ابتدا کرتا ہے کی قومی زندگی کی ابتدا کرتا ہے اس لئے نبی کی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت اور اس کی تفصیلات کو اللہ تعالی نبی کی زندگی میں پردہ اخفاء میں رکھتا ہے ایسے ہی حالات میں رسول کریم ﷺ فوت ہوئے۔جب آپ وفات پا گئے تو پہلے تو بعض صحابہ نے سمجھا کہ آپ فوت نہیں ہوئے مگر جب انہیں پتہ لگا کہ آپ واقعہ میں فوت ہو چکے ہیں تو وہ حیران ہوئے کہ اب وہ کیا کریں اور وہ کون سا طریق عمل میں لائیں جو رسول کریم ﷺ کے لائے ہوئے مشن کی تکمیل کے لئے ضروری