خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 75
خلافة على منهاج النبوة ۷۵ جلد اول تو آتے ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص کسی قوم کا سردار بنے گا اس کے پاس حاجت مند تو آئیں گے اس لئے شریعت نے زکوۃ کا انتظام خلیفہ کے سپرد کیا ہے تمام زکوۃ اُس کے پاس آنی چاہیے تا کہ وہ حاجتمندوں کو دیتا رہے۔پس چونکہ یہ میرا ایک فرض اور کام ہے کہ میں کمزور لوگوں کی کمزوریوں کو دور کروں اس لئے تمہارا فرض ہونا چاہیے کہ اس میں میرے مددگار رہو۔ابھی تو جھگڑے ہی ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کئی سو کی درخواستیں آچکی ہیں جن کا مجھے انتظام کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ابھی میں نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ خلیفہ کے ذمہ رکھا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریاں دور کرے خواہ وہ جسمانی ہوں یا مالی ، ذہنی ہوں عملی یا علمی اور اس کے لئے سامان چاہئے۔پس اس کے انتظام کے لئے زکوۃ کی مدکا کے لئے زکوۃ کی مد کا انتظام ہونا ضروری ہے۔میں نے اس کے انتظام کے لئے یہ تجویز کی ہے کہ زکوۃ سے اس قسم کے اخراجات ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں بھی یہ تجویز میں نے پیش کی تھی۔پہلے تو میں ان سے بے تکلف تھا اور دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں ان کے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا۔جاننے والے جانتے ہیں خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرأت نہ کرتا اور نہ اونچی آواز سے کلام کرتا۔کسی ذریعہ سے میں نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ زکوۃ خلیفہ کے پاس آنی چاہئے۔کسی زمانہ میں تو عشر آتے تھے اب وہ وقت نہیں۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس شخص کو کہا کہ تم مجھے زکوۃ دے دیا کرو میرا یہی مذہب ہے۔اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ زکوۃ خلیفہ کے پاس جمع ہو۔پس تمہیں چاہئے کہ اپنی انجمنوں میں زکوۃ کے رجسٹر رکھو اور ہر شخص کی آمدنی تشخیص کر کے اس میں درج کرو اور جو لوگ صاحب نصاب ہوں وہ حساب کر کے پوری زکوۃ ادا کریں اور وہ براہ راست انجمن مقامی کے رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آ جائے اس کا با قاعدہ حساب کتاب رہے۔ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن زکوٰۃ دینے والوں کے بعض رشتہ دار مستحق زکوۃ ہوں کہ ان کی مدد ز کوۃ سے ہو سکتی ہو وہ ایک فہرست اس مطلب کی یہاں بھیج دیں۔پھر ان کے لئے بھی مناسب مدد یا تو یہاں سے بھیج دی جایا کرے گی یا وہاں ہی سے دے دیئے جانے کا حکم دیا جایا کرے گا۔بہر حال زکوۃ جمع ایک جگہ ہونی۔