خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 71
خلافة على منهاج النبوة جلد اول ایسا رسالہ تیار ہو جائے تو آئے دن کے جھگڑے فیصل ہو جائیں اور پھر نزا میں برپا نہ ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ علماء کی ایک مجلس قائم کروں اور وہ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھ کر اور آپ کی تقریروں کو زیر نظر رکھ کر عقائد احمدیہ پر ایک کتاب لکھیں اور اس کو شائع کیا جاوے۔اس وقت جو بخشیں چھڑتی ہیں جیسے کفر و اسلام کی بحث کسی نے چھیڑ دی اس سے اس قسم کی تمام بحثوں کا سد باب ہو جائے گا۔لیکن اب جب کہ کوئی ایسی مستند اور جامع کتاب موجود نہیں مختلف جھگڑے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے حضرت صاحب مسیح ناصری سے افضل تھے دوسرا کہتا ہے نہیں۔اس کی جڑ یہی ہے کہ لوگوں کو واقفیت نہیں۔مگر جب ایسی جامع کتاب علماء کی ایک مجلس کے کامل غور کے بعد شائع ہو جاوے گی تو سب کے سب اسے اپنے پاس رکھیں گے اور اس طرح پر عقائد میں انشَاءَ اللہ اختلاف نہیں ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق وعظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپ بہت ہی مختصر وعظ فرماتے لیکن کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ وعظ فرما رہے ہیں اور ظہر کا وقت آ گیا۔پھر نماز پڑھ لی۔پھر وعظ کرنے لگے اور عصر کا وقت آ گیا پھر نماز پڑھ لی۔پس آج کا وعظ اِسی سنت پر عمل معلوم ہوتا ہے۔میں جب یہاں آیا ہوں تو بیت الدعا میں دعا کر کے آیا تھا کہ میرے منہ سے کوئی بات ایسی نہ نکلے جو ہدایت کی بات نہ ہو۔ہدایت ہوا اور لوگ ہدایت سمجھ کر مانیں۔میں دیکھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور میں اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہوں مگر با تیں آ رہی ہیں اور مجھے بولنا پڑتا ہے۔پس میں انہیں ربانی تحریک سمجھ کر اور اپنی دعا کا نتیجہ یقین کر کے بولنے پر مجبور ہوں۔غرض تعلیم العقائد کیلئے ایک ایسے رسالہ یا ٹریکٹ کی ضرورت ہے۔اس کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ وقت آ رہی ہے کہ کسی نے صرف تریاق القلوب کو پڑھا اور اس سے ایک نتیجہ نکال کر اس پر قائم ہو گیا حقیقۃ الوحی کو نہ دیکھا۔اب دوسرا آیا اس نے حقیقۃ الوحی کو پڑھا اور سمجھا ہے وہ اس کی بناء پر اس سے بحث کرتا ہے اور تیسرا آتا ہے اس نے حضرت صاحب کے تمام اشتہارات کو بھی جن کی تعداد ۱۸۰ سے زیادہ ہے پڑھا ہے وہ اپنے علم کے موافق کلام کرتا ہے۔مثلاً مجھے اب تک معلوم نہ تھا کہ اشتہارات کی اس قدر