خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 70

خلافة على منهاج النبوة جلد اول نوبت پہنچی تو رکوع اور سجدہ بھی ساتھ ہی گیا۔اگر کوئی شخص ان کو حکمت سکھانے والا ہوتا اور انہیں بتا تا کہ نماز کی حقیقت یہ ہے، وضو کے یہ فوائد ہیں اور رکوع اور سجود میں یہ حکمتیں ہیں تو یہ مصیبت کیوں آتی اور اس طرح وہ دین کو کیوں خیر باد کہتے۔مسلمانوں نے شرائع کی حکمتوں کے سیکھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں اگر کوئی عالم ان کو حکمتوں سے واقف کرتا تو کبھی دہریت اور ارتداد نہ پھیلتا۔یہاں اسی مسجد والے مکان کے مالک حضرت صاحب کے چا کا بیٹا مرزا امام الدین دہر یہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب! کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ اسلام کی طرف توجہ کرنی چاہیے؟ کہنے لگا کہ میری فطرت بچپن سے ہی سلیم تھی لوگ جب نماز پڑھتے اور رکوع سجود کرتے تو مجھے ہنسی آتی تھی کہ یہ کیا کرتے ہیں۔یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہیں کسی نے حکمت نہ سکھائی، شرائع اسلام کی حقیقت سے واقف نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دہر یہ ہو گیا۔سو یہ کام خلیفہ کا ہے کہ حکمت سکھائے اور چونکہ وہ ہر جگہ تو جا نہیں سکتا اس لئے ایک جماعت ہو جو اس کے پاس رہ کر ان حکمتوں اور شرائع کے حدود کو سیکھے پھر وہ اس کے ماتحت لوگوں کو سکھائے تا کہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔اس زمانہ میں اس کی خصوصیت۔ضرورت ہے کہ لوگ جدید علوم پڑھ کر ہوشیار ہو رہے ہیں۔عیسائیوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے کہ عبادات کے ساتھ مادی امور کو شامل کیا ہے۔انہیں چونکہ شریعت کی حقیقت کی خبر نہیں اس لئے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں پس ضرورت ہے کہ واعظ مقرر ہوں جو شرائع کی تعلیم دیں اور ان کی حکمت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔تعلیم العقائد کی کتاب اس کے سوا ایک اور ضروری بات ہے حضرت صاحب کو اس کے متعلق بڑی توجہ تھی مگر لوگوں نے بھلا دی۔اس کے إنا لله وإنا الیور جِعُون پھر حضرت خلیفہ اسیح نے توجہ دلائی مگر لوگوں نے پھر بھلا دی۔میں اب پھر یاد دلاتا ہوں اور انشاء اللہ العزیز میں اس کو یا درکھوں گا اور یاد دلاتا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکمیل کے کام سے سر خرو کر دے۔میں نے حضرت صاحب سے بارہا یہ خواہش سنی تھی کہ ایسا رسالہ ہو جس میں عقائد احمد یہ ہوں۔اگر