خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 69

خلافة على منهاج النبوة جلد اول ہو؟ مولوی صاحب نے کہا کہ چار انگلیاں ہماری تمہاری نہیں بلکہ حضرت عمر کی۔اُن کی چار انگلیاں ہماری بالشت کے برابر تھیں۔اسی طرح انسان خیالی شریعتیں قائم کرتا ہے۔یہ خوف کا مقام ہے ایسی باتوں سے پر ہیز کرنا چاہیے اور یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان حدود شرائع سے واقف ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو۔یہ مت سمجھو کہ چھوٹے چھوٹے احکام میں اگر پرواہ نہ کی جاوے تو کوئی حرج نہیں یہ بڑی بھاری غلطی ہے جو شخص چھوٹے سے چھوٹے حکم کی پابندی نہیں کرتا وہ بڑے سے بڑے حکم کی بھی پابندی نہیں کر سکتا۔خدا کے حکم سب بڑے ہیں بڑوں کی بات بڑی ہی ہوتی ہے جن احکام کو لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں ان سے غفلت اور بے پرواہی بعض اوقات گفر تک پہنچا دیتی ہے۔خدا تعالیٰ نے بعض چھوٹے چھوٹے احکام بتائے ہیں مگر ان کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔طالوت کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ایک نہر کے ذریعہ قوم کا امتحان ہو گیا۔سیر ہو کر پینے والوں کو کہ دیا فليس مني " اب ایک سطحی خیال کا آدمی تو یہی کہے گا کہ پانی پی لینا کونسا جرم تھا مگر نہیں اللہ تعالیٰ کو اطاعت سکھانا مقصود تھا۔وہ جنگ کے لئے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں گے تو پھر میدانِ جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔چونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا آپ نے فرمایا کہ گھبرانا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعض وقت لمبی تقریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے آپ لوگوں کو جس غرض کے لئے جمع کیا گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ پورے طور پر اس سے واقف ہو جاویں ) غرض شرائع میں حکمتیں ہیں اگر ان کی حقیقت معلوم نہ ہو تو بعض وقت اصل احکام بھی جاتے رہتے ہیں اور پھر غفلت اور سستی پیدا ہو کر مٹ جاتے ہیں۔کسی جنٹلمین نے لکھ دیا کہ نماز کسی بیچ یا کرسی پر بیٹھ کر ہونی چاہیے کیونکہ پتلون خراب ہو جاتی ہے۔دوسرے نے کہہ دیا کہ وضو کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے کفیں وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں۔جب یہاں تک