خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 68

خلافة على منهاج النبوة ۶۸ جلد اول یوں کہو کہ قرآن مجید کی ہدایت کے موافق میری پہلی تجویز ہے۔دوسری تجویز بھی قرآن مجید ہی کی ہے چنانچہ فرمایا وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إلى الخير " یہ آیت واعظین کی ایک ایسی جماعت کی تائید کرتی ہے جس کا کام ہی تبلیغ ہو۔تعلیم شرائع ان امور کے بعد پر تعلیم شرائع کا کام آ تا ہے جب تک قوم کو شریعت سے واقفیت نہ ہو، انہیں معلوم نہ ہو کہ اُنہوں نے کیا کرنا ہے عملی حالت کی اصلاح مشکل ہوتی ہے اس لئے خلیفہ کے کاموں میں تعلیم شرائع ضروری ہے۔میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بیعت کرنے لگا۔اُس کو کلمہ بھی نہیں آتا تھا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا کوئی فرد باقی نہ رہے جو ضروری باتیں دین کی نہ جانتا ہو۔پس اس تعلیم شرائع کے انتظام کی ضرورت ہے۔یہ کام کچھ تو مبلغین اور واعظین سے لیا جاوے۔وہ ضروری دینی مسائل سے قوم کو واقف کرتے رہیں۔میں نے ایسے آدمیوں کو دیکھا ہے جو قوم میں لیڈ رکہلاتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھنا جانتے اور بعض اوقات عجیب عجیب قسم کی غلطیاں کرتے ہیں اور نمازیں پڑھنی نہیں آتی ہیں اور یقینا نہیں آتی ہیں۔کوئی کہہ دے گا کہ یہ (تعدیل ارکان) فضول ہیں میں کہتا ہوں کہ خدا نے کیوں فرمایا يُعلّمُهُمُ الكتب والحكمة پس یہ ضروری چیز ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی حکمت بیان کر سکتا ہوں۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ جراب میں ذرا سوراخ ہو جاتا تو فوراً اُس کو تبدیل کر لیتے۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسی پھٹی ہوئی جرابوں پر بھی جن کی ایڑی اور پنجہ دونوں نہیں ہوتے مسح کرتے چلے جاتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے؟ شریعت کے احکام کی واقفیت نہیں ہوتی۔اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رخصت اور جواز کے صحیح محل کو نہیں سمجھتے۔مجھے ایک دوست نے ایک لطیفہ سنایا کہ کسی مولوی نے ریشم کے کنارے والا تہ بند پہنا ہوا تھا اور وہ کنارہ بہت بڑا تھا۔میں نے ان سے کہا کہ ریشم تو منع ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ کہاں لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ لوگوں سے ہی سنا ہے کہ چار انگلیوں سے زیادہ نہ