خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 50

خلافة على منهاج النبوة جلد اول علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے وقت اس طرح دعا کی تھی جو اب پوری ہونے لگی ہے۔بار بار يبني اسراءيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ فرما کر یہ بتایا کہ بنی اسرائیل کا حق شکایت کا کوئی نہیں ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے اور جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضرور تھا کہ بنی اسماعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔اور اس طرح پر بنی اسرائیل پر بھی اتمام حجت کیا کہ باوجود انعام الہیہ کے تم نے نافرمانی کی اور مختلف قسم کی بدیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو تم نے محروم کرنے کا مستحق ٹھہرا لیا ہے تم میں نبی آئے ، بادشاہ ہوئے اب وہی انعام بنی اسماعیل پر ہوں گے۔اور اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعا تو تھی ہم کیونکر ما نہیں کہ یہ شخص وہی موعود ہے اس کا ثبوت ہونا چاہیے۔اس کے لئے فرمایا کہ موعود ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس دعا میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور چونکہ اس نے ان سب وعدوں کو پورا کر دیا ہے اس لئے یہی وہ شخص ہے۔گو سارا قرآن شریف ان چار ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے لیکن اس سورۃ میں خلاصہ سب باتیں بیان فرمائیں تا معترض پر حجت ہو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتك كے متعلق فرمایا اِنَّ في خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ آخر میں فرمایا لایت تقوم يَعْقِلُونَ اس میں عقل رکھنے والوں کے لئے کافی دلائل ہیں جن سے اللہ تعالی ، ملائکہ ، کلام الہی اور نبوت کا ثبوت ملتا ہے یہ تو نمونہ دیا تلاوت آیات کا۔اس کے بعد تھا يُعَلِّمُهُمُ الکتب اس کیلئے مختصر طور پر شریعت اسلام کے موٹے موٹے احکام بیان فرمائے اور ان میں بار بار فرمایا کُتِبَ عَلَيْكُمْ ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ یہ بتایا کہ دیکھو اس پر کیسی بے عیب شریعت نازل ہوئی ہے۔پس یہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِک کا بھی مصداق ہے اور يُعَلِّمُهُمُ الكِتب کا بھی۔تیسرا کام بتایا تھا کہ لوگوں کو حکمت سکھائے۔اس لئے شریعت کے موٹے موٹے حکم بیان فرمانے کے بعد قومی ترقی کے راز اور شرائع کی اغراض کا ذکر فرمایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور طالوت کے واقعات سے بتایا کہ کس طرح قومیں ترقی کرتی ہیں اور کس طرح مُردہ قومیں زندہ کی جاتی ہیں۔پس تم کو بھی ان راہوں کو اختیار کرنا چاہیے اور اس حصہ میں جس