خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 49

خلافة على منهاج النبوة ۴۹ جلد اول نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں۔اُس وقت اُن سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میں نے عذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا، میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الہی ہے آخر میں نے ان کو شروع کرا دیا۔ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُم سورۃ بقرہ کی ترتیب پورے طور میری سمجھ میں آ گئی، اب آپ اس کو مد نظر رکھ کر سورۃ بقرہ کی ترتیب پر غور کریں تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ترتیب سورۃ بقرہ اب غور کروا پہلے بتایا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم خدا ہے پھر بتایا کہ قرآن مجید کی کیا ضرورت ہے کیونکہ سوال ہوتا تھا کہ مختلف مذا ہب کی موجودگی میں اس مذہب کی کیا ضرورت پیش آئی اور یہ کتاب خدا تعالیٰ نے کیوں نازل کی ، اس کی غرض و غایت بتائی۔ھدى لِلْمُتَّقِينَ یعنی سب مذاہب تو صرف متقی بنانے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ کتاب ایسی ہے جو متقی کو بھی آگے لے جاتی ہے۔متقی تو اسے کہتے ہیں جو انسانی کوشش کو پورا کرے پس اسے آگے لے جانے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ اب خود اس سے ہمکلام ہو۔پھر متقین کے اعمال اور کام بتائے پھر بتایا کہ اس کتاب کے ماننے والوں اور منکروں میں کیا امتیاز ہوگا۔پھر بتایا کہ انسان چونکہ عبادتِ الہی کے لیے پیدا ہوا ہے اس لیے اس کے لیے کوئی ہدایت نامہ چاہیے اور وہ ہدایت نامہ خدا کی طرف سے آنا چاہیے۔پھر بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آتی بھی رہی ہے جیسے کہ ابتدائے عالم میں آدم کی بعثت ہوئی ، اس کے بعد اس کو اور کھولا اور آدم کی مثال پیش کر کے بتایا کہ یہ سلسلہ و ہیں ختم نہ ہو گیا بلکہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا بنی اسرائیل میں ہوا۔جو موجود ہیں ان سے پوچھو ہم نے ان پر کس قدر نعمتیں کی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم ہمارے کلام کے مستحق نہیں ہو سکتے اب جب کہ یہ ظالم ہو گئے ہیں ان کو ہمارا کلام سننے کا حق نہیں اب ہم کسی اور خاندان سے تعلق کریں گے اور وہ بنی اسماعیل کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ دونوں بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کروں گا ج ایک سے وہ وعدہ پورا ہوا ، تو ضرور تھا کہ دوسرے سے بھی پورا ہو چنانچہ بتایا کہ ابراہیم