خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 48
خلافة على منهاج النبوة ۴۸ جلد اول پھر رکوع ، سجود، قیام اور قعدہ کی حکمت بتائی جائے اور خدا کے فضل سے میں یہ سب بتا سکتا ہوں۔غرض تیسرا کام نبی یا اس کے خلیفہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ احکام شریعت کی حکمت سے لوگوں کو واقف کرتا ہے۔غرض ایمان کے لئے يَتْلُوا عَلَيْهِم ايت فرمایا۔پھر ایمان کے بعد اعمال کے لي يُعلّمُهُمُ الكتب۔پھر ان اعمال میں ایک جوش اور ذوق پیدا کرنے اور ان کی حقیقت بتانے کے واسطے والحكمة فرمایا ، نماز کے متعلق میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ تمام احکام میں اللہ تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔پھر چوتھا کام فرمایا دیر کییہ حکمت کی تعلیم کے بعد انہیں پاک کرے۔چوتھا کام ترکیہ کا کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ یہ للہ تعالی کے اپنے قبضہ اور اختیار میں ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو نبی کو کیوں کہا کہ وہ پاک کرے؟ اس کی تفصیل میں آگے بیان کروں گا مختصر طور پر میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ہی بتا دیا ہے کہ پاک کرنے کا کیا طریق ہے اور وہ ذریعہ دعا ہے، پس نبی کو جو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی حکمتیں مخفی رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت سورہ بقرہ کی ترتیب کا پتہ دیتی ہے لوگوں کو سورہ بقرہ کی ترتیب میں بڑی بڑی دقتیں پیش آئی ہیں لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ ذکر ہے کہیں کچھ۔کہیں بنی اسرائیل کا ذکر آ جاتا ہے کہیں نماز روزہ کا ، کہیں طلاق کا ،کہیں ابراہیم علیہ السلام کے مباحثات کا ، کہیں طالوت کا ، ان تمام واقعات کا آپس میں جوڑ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ مجھے یہ سب کچھ سکھا دیا ہے۔سورۃ بقرہ کی ترتیب کس طرح سمجھائی گئی حضرت طلیقہ مسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب