خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 45
خلافة على منهاج النبوة ۴۵ جلد اول اپنے خزانوں کو کھول دیجئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجئے۔اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی دردِ دل اور بڑے اضطراب سے دعا کی ہوا اور وہ قبول نہ ہوئی ہو۔بچہ بھی جب درد سے چلاتا ہے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ جوش مارتا ہے۔پس جب ایک چھوٹے بچے کے لئے باوجود ایک قلیل اور عارضی تعلق کے اس کے چلانے پر چھاتیوں میں دودھ آ جاتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی اضطراب اور درد سے دعا کرے اور وہ قبول نہ ہو۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ معاملہ میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وإذا سألكَ عِبَادِي عَنِّي فَانّي قريب أجيب دعوة الداع اذا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ جب میرے بندے میری نسبت تجھ سے سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں۔یہاں اُجیب دعوة الداع فرمایا یہ نہیں کہا کہ میں صرف مسلمان یا کسی خاص ملک اور قوم کے آدمی کی دعا سنتا ہوں ، کوئی ہو، کہیں کا ہو، اور کہیں ہو۔اس قبولیت دعا کی غرض کیا ہوتی ہے؟ فلیشتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوابي مان لے اور مسلمان ہو جاوے اور مسلمان اور مؤمن ہو تو اس ایمان میں ترقی کرے۔کافر کی دعا ئیں اس لئے قبول کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان ہو اور وہ مؤمن بن جاوے۔اور مؤمن کی اس لئے کہ رُشد اور یقین میں ترقی کرے۔خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کا بہترین طریق دعا ہی ہے اور مؤمن کی امیدیں اسی سے وسیع ہوتی ہیں۔پس میں نے بھی بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہوں گی۔پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں تو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ مجھے سمجھا۔میں نے اس فتنہ کو دیکھا جو اس وقت پیدا ہوا ہے میں نے اپنے آپ کو اس قابل نہ پایا کہ اُس کی توفیق اور تائید کے بغیر اس کو دور کر سکوں میرا سہارا اُسی پر ہے