خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 38
خلافة على منهاج النبوة ۳۸ جلد اول اس پیشگوئی کے علاوہ خدا تعالیٰ نے سینکڑوں آدمیوں کو خوابوں کے ذریعہ سے میری طرف جھکا دیا اور قریباً ڈیڑھ سو خواب تو ان چند دنوں میں مجھ تک بھی پہنچ چکی ہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس کو شائع کر دیا جائے۔اور میری ان تمام باتوں سے یہ غرض نہیں ہے کہ میں اپنی بڑائی بیان کروں بلکہ غرض یہ ہے کہ کسی طرح جماعت کا تفرقہ دور ہو اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جو اس وقت ایک اتحاد کی رسی میں نہیں جکڑے گئے۔ورنہ میری طبیعت ان باتوں کے اظہار سے نفرت کرتی ہے۔مگر جماعت کا اتحاد مجھے سب باتوں سے زیادہ پیارا ہے۔وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یا اب تک بیعت میں داخل نہیں ہوئے آخر کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزا در ہیں ؟ مگر وہ یا درکھیں کہ ان کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہوگا۔پھر کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں ؟ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو یا درکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعت اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے۔پس اب وہ جو کچھ بھی کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے۔خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں۔یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہوسکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔میرا دل اس تفرقہ کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلا جاتا ہے اور میں اپنی جان کو پکھلتا ہوا دیکھتا ہوں رات اور دن میں غم و رنج سے ہم صحبت ہوں۔اس لئے نہیں کہ تمہاری اطاعت کا میں شائق ہوں بلکہ اس لئے کہ جماعت میں کسی طرح اتحاد پیدا ہو جائے۔لیکن میں اس کے ساتھ ہی کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جو عہدہ خلافت کی ذلت کا باعث ہو۔وہ کام جو خدا نے