خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 37
خلافة على منهاج النبوة ۳۷ جلد اول پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو کل تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ جو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اسے یوں اپنے بغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا۔اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔جب کہ آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں۔فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعوی کیا تھا اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کیا تھا مگر بے خدمت آدم جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔پس اگر آدم کے مقابلہ میں فرشتوں نے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے بڑی بڑی خدمات کی ہیں وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ ل آج بھی وہی دعوی نہ پیش کیا جاتا۔مگر فرشتہ خصلت ہے وہ انسان جو ٹھو کر کھا کر سنبھلتا ہے اور خدا تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو تکبر کی وجہ سے آخر تک اطاعت سے سر گردان رہے۔پس اے میرے دوستو ! تم فرشتہ بنو اور اگر تم کو ٹھوکر لگی بھی ہے تو تو بہ کرو کہ تا خدا تمہیں ملائکہ میں جگہ دے ورنہ یا درکھو کہ فتنہ کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔کیا تمہیں مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں ؟ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا دوسرا نام فضل عمر ہو گا اور تریاق القلوب میں آپ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے۔پس مجھے بتاؤ کہ عمر کون تھا ؟ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دوسرا خلیفہ تھا۔پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپر د وہ کام کیا جائے جو حضرت عمر کے سپر د ہوا تھا۔پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا عذر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا۔اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی زندگی میں اس پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا بلکہ بعد میں ہوا۔