خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 36

خلافة على منهاج النبوة جلد اول تھا ، جاہ طلبی مجھے چین نہ لینے دیتی تھی مگر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تمہارا اعتراض تو وہی ہے جو ثمود نے صالح پر کیا یعنی بَلْ هُوَ كَذَاب آشر وہ تو جھوٹا اور متکبر اور بڑائی کا طالب ہے۔اور میں بھی تم کو وہی جواب دیتا ہوں جو حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا کہ سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الكَذَّابُ الأَشرُ ذرا صبر سے کام لو خدا تعالیٰ کچھ دنوں تک خود بتا دے گا کہ کون جھوٹا اور متکبر ہے اور کون بڑائی کا طلبگار ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے انتخاب کیلئے ایک لمبی میعاد مقرر ہونی چاہیے تھی کہ کل جماعتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر انتخاب ہوتا لیکن اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی کہ ایسا کیوں ہوتا۔نہ تو ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ ا کی وفات پر ہوا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کرنے والے ۱۲۰۰ آدمی تھے اور ۲۴ گھنٹہ کا وقفہ ہوا تھا لیکن اب ۲۸ گھنٹہ کے وقفہ کے بعد قریبا دو ہزار آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی۔حالانکہ حالات بھی مخالف تھے اور یہ سوال پیدا کیا گیا تھا کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں اور یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام تھا کہ اس نے اس فتنہ کے وقت جماعت کو بچا لیا اور ایک بڑے حصہ کو ایک شخص کے ہاتھ پر متحد کر دیا۔حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر تو ابتدا میں صرف تین آدمیوں نے بیعت کی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ نے مہاجرین میں سے اور قیس بن سعد نے انصار میں سے۔اور بیعت کے وقت بعض لوگ تلواروں کے ذریعہ سے بیعت کو روکنا چاہتے تھے اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اُٹھانا چاہتے تھے اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت ابو بکر کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کے لئے تیار ہو گئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت نا جائز تھی۔مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔پس جب کہ ایک شخص کی دو ہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت نا جائز ہے۔اگر اس کی خلافت ناجائز ہے تو ابو بکر، عثمان و علی اور نور الدین رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ کی خلافت اس سے بڑھ کرنا جائز ہے۔