خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 34
خلافة على منهاج النبوة ۳۴ جلد اول مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔کیسا نا دان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابلِ رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھری پھیرتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خدا تعالیٰ نے تیری ترقی کیلئے بھیجے ہیں اُن کو ر ڈمت کر کیونکہ فرمایا ہے لَئِن شَكَرْتُمْ لا زيد تكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدُ البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یا درکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔یہ ایک دھوکا ہے کہ سلسلۂ خلافت سے شرک پھیلتا ہے اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے خود اس خیال کو رڈ فرما دیا ہے کیونکہ خلفاء کی نسبت فرماتا ہے يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شيعا خلفاء میری ہی عبادت کیا کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے۔خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں خلافت پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اس سے شرک کا اندیشہ ہے اور غیر مامور کی اطاعت جائز نہیں پس خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں ہی اس کا جواب دے دیا کہ خلافت شرک پھیلانے والی نہیں بلکہ اسے مٹانے والی ہوگی اور خلیفہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہوں گے ورنہ آیت استخلاف میں شرک کے ذکر کا اور کوئی موقع نہ تھا۔غرض کہ خلافت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا خصوصاً وہ قوم جو اپنے عمل سے چھ سال تک مسلۂ خلافت کے معنی کر چکی ہو اس کا ہر گز حق نہیں کہ اب خلافت کی تحقیقات شروع کرے۔اور اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو سمجھا جائے گا کہ خلیفہ اول کی بیعت بھی اس نے نفاق سے کی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خلفائے سلسلہ اوّل سے مشابہت دیتا تھا اور خلیفہ کی حیثیت میں بیعت لیا کرتا تھا اور اس کے وعظوں اور لیکچروں میں اس امر کو ایسا واضح کر دیا گیا تھا کہ کوئی راستباز انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا اور اب اس کی وفات کے بعد کسی کا حق نہیں کہ جماعت میں فساد ڈلوائے۔مجھے اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں تفرقہ کے آثار ہیں اور بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا رہے ہیں