خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 496

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 471

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۱ جلد اول محمد اسماعیل صاحب کے واقعہ کو پیش کرنا جسے خود اپنے ہی احباب کے سمجھانے پر چھوڑ دیا گیا تھا درست ہوسکتا تھا۔علاوہ اس واقعہ کے ان لوگوں کے متعلق ایک اور شہادت بھی ملتی ہے اور وہ ڈاکٹر الہی بخش صاحب کی ہے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں :۔” مجھے یاد ہے کہ ابھی حضرت اقدس خلیفہ امسیح الا ول ایسے سخت بیمار نہ تھے مگر حالت ان کی دن بدن نازک ہوتی چلی جاتی تھی۔ایک روز جس کی تاریخ مجھے ٹھیک یاد نہیں ہے اکبر شاہ خان صاحب سے میں نے پہلے ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی حالت دن بدن نازک ہوتی جاتی ہے اللہ تعالیٰ خیر کرے۔اسی اثناء میں خلافت کا ذکر بھی آگیا اس پر خان صاحب نے کہا کہ فساد کا تو ڈر ہے کیونکہ میاں صاحب کی خلافت لا ہوری صاحبان نہیں مانیں گے۔اگر خواجہ صاحب کی طرف توجہ کی تو دوسرے لوگ نہیں مانیں گے ہاں ایک صورت ہے جس سے فساد بھی نہیں ہوتا اور خلافت بھی قائم ہو سکتی ہے۔میں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی؟ اس وقت خان صاحب نے کہا کہ اگر میاں صاحب اپنا حوصلہ وسیع کریں تو بات بن جاتی ہے اور وہ مولوی محمد علی صاحب ہیں اگر ان کی بیعت کر لی جائے تو لا ہوری بھی مان جاویں گے اور دوسرے بھی مان جاویں گے۔یہ آپس میں گفتگو تھی۔مگر حضرت کی زندگی میں۔بہت دن پہلے۔الہی بخش بقلم خو د ۲۹ را پریل ۱۹۱۴ء ) اس شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کا الزام یہ لوگ ہم پر لگاتے ہیں وہ خود ان پر لگتا ہے اور جو الزام ہم پر لگایا جاتا ہے اس کی نسبت میں ثابت کر چکا ہوں کہ وہ ایک دو آدمیوں کی غلطی سے ہوا اور خود ہماری طرف سے ہی پیشتر اس کے کہ کوئی نتیجہ نکلتا اس کا تدارک کر دیا گیا۔اس طرح اور کئی باتیں ہارے بد نام کتنی جماعت بیعت میں داخل ہے کرنے کیلئے مشہور کی گئیں مگر خدا تعالی نے سلسلہ کو مضبوط کیا۔اور باوجود اس کے کہ خود انہی کی تحریروں کے مطابق ننانوے فیصدی جماعت ابتدا میں ان کے ساتھ تھی مگر تھوڑے ہی عرصہ میں خدا تعالیٰ نے سب کو کھینچ کر میرے پاس لا ڈالا اور اب قریباً نا نوے فیصدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ساتھ ہے۔