خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 470
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۰ جلد اول خدا تعالیٰ کا ہے اس پر چھوڑ دو۔اور زیادہ تر یہ بات معلوم ہونے پر کہ میں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خواہ ان لوگوں کے ہاتھ پر بیعت کر لینی پڑے جماعت کو فتنہ سے بچانا چاہئے اس امر کو ترک کر دیا گیا۔یہ اصل واقعہ ہے اور گو مولوی محمد اسماعیل صاحب کی اس میں ضرور غلطی ہے لیکن قابل غور یہ امور ہیں کہ اس میں نہ میرا نہ انجمن انصار اللہ کا کوئی دخل تھا۔یہ کام انہوں نے اپنے خیال میں خود حفاظتی کے طور پر ایک مشہور روایت کی بناء پر کرنا چاہا تھا۔آٹھ دس آدمیوں سے زیادہ سے یہ ذکر نہیں کیا گیا۔فوراً ہی اس کا رروائی کو چھوڑ دیا گیا۔خود بعض انصار اللہ کی انجمن کے ممبروں نے اور میرے خاندان کے ایک آدمی نے ان کو سختی سے اس بات سے روکا اور میرے قطعی فیصلہ کے معلوم ہونے پر وہ اس امر سے بالکل باز آ گئے۔پس یہ واقعہ ہر گز کسی سازش پر دلالت نہیں کرتا۔مولوی محمد علی صاحب ہاں اس کے مقابلہ میں ایک اور واقعہ ہے جس کے راوی ماسٹر عبدالحق صاحب مرحوم مشہور مضمون نگار کے ساتھیوں کی سازش ہیں۔انہوں نے شروع میں میری بیعت نہ کی تھی۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی صدرالدین صاحب و و کنگ مشنری اور ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی سکول لاہور اور ٹرسٹی احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لا ہور نے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے بعد اس خیال سے کہ لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کی تھی کہ کوئی خلیفہ بنایا جاوے۔مولوی محمد علی صاحب اپنے ٹریکٹ کی اشاعت کی وجہ سے اپنے ہاتھ کاٹ چکے تھے۔اس لئے سید حامد علی شاہ صاحب کی نسبت تجویز کی گئی کہ ان کی خلافت کیلئے چالیس آدمی تیار کئے جاویں اور وہ بیان کرتے ہیں کہ رات کے وقت مولوی صدرالدین صاحب ہاتھ میں لالٹین لے کر دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر ماسٹر عبدالحق صاحب اور ایک اور صاحب سمیت چکر لگاتے رہے کہ چالیس آدمی ہی اس خیال سے مل جاویں۔مگر اتنے آدمی بھی (اس دو ہزار کے مجمع میں سے جس میں بقول ان کے اکثر مجھ سے نفرت کرتے تھے ) ایسے نہ ملے جوان کا ساتھ دیتے۔ماسٹر صاحب تو فوت ہو گئے ہیں مولوی صدرالدین صاحب ہی قسم کھا کر بیان کر دیں کہ کیا یہ واقعہ درست نہیں اور کیا اس واقعہ کی موجودگی میں ان کا مولوی